دہشت گردوں کے لیے ہتھیار ڈالنے یا انجام بھگتنے کا پیغام
شائع شدہ تاریخ 31 جولائی, 2026
انسداد دہشت گردی اور سکیورٹی کے معاملات پریس بریفنگ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ ملک میں 5 سال کے دوران بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے، بلوچستان میں اب تک 31 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں جبکہ کے پی میں 7177 آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال اب تک 819 افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے آرمی کے 303 جوان شہید ہوئے، 322 شہری بھی دہشت گرد کارروائیوں میں شہید ہوئے۔
ان کا کہنا تھا 2084 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے، سکیورٹی فورسز نے 194 آپریشن روازانہ کیے ہیں، ہر روز 10 دہشت گرد مارے گئے، مجموعی طورپر 28 خود کش حملوں کے واقعات ہوئے، زیادہ تر بم دھماکوں میں افغان باشندے ملوث ہیں، ٹانک،کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں افغانی ملوث تھے، افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے، افغانستان کی ڈپلومیسی بھی دہشتگردی کےاردگردہے، دہشتگردوں اوران کے سہولتکاروں کو 100 گنا تکلیف دیں گے کہ قیامت تک یادرکھیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا جان بوجھ کر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ہم ان کے لڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق جان بوجھ کر پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ایلیٹ اور سردار چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ آگے نہ بڑھے، دہشتگردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، اسٹیٹس کویہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھےنہیں، ہمیشہ ان کا غلام رہے، انہیں عادت ہے لیویز میری ذاتی فورس ہے، میں اس کا سردارہوں، بلوچستان کا مسئلہ وہاں کے سردار اورایلیٹ طبقہ ہے، ان کو اپنےذاتی گھروں کی چوکیداری کیلئے لیویزفورس چاہیے، ہم ایلیٹ کلاس اور سردار سے نہیں بلوچستان کے لوگوں سے بات کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ لوگ لیویز فورس کو اپنی سرداری فورس سمجھتےہیں، دوسری صورت میں دہشتگردی کرنےکی دھمکیاں دیتےہیں، افغان طالبان رجیم کا ایک ہی کام ہے یہ دہشتگردی کوبطورکاروبارکرتےہیں، افغانستان اوربھارت کےدرمیان بی ایل اے کے علاوہ اورکیا چیزمشترکہ ہے، یہ افغانستان نہیں، افغان طالبان رجیم کے زیرقبضہ علاقے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہے، کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست کو چلا رہی ہے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہوں کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست تو ہم سب کی جان ہے، پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ ہم ان کو باہرنکل کرمار ر ہے ہیں، ہم ان کا شکارکر رہے ہیں، اس لیے اب فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے بھارت میں بیٹھے ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس سال اب تک 178 سویلینز کو شہید کیا جا چکا ہے، انہوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو تباہ کیا، 60 مقامات پر آگ لگائی گئی، یہ ہے ان لوگوں کی احساس محرومی اور ان کا ترقی مخالف ایجنڈا جسے وہ پروان چڑھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کی بچیوں کے ساتھ ایک واردات ڈال رہے ہیں، ذہنی طور پر ان کو ٹریپ کرکے ان کے ہاتھوں دہشتگردی کراتےہیں، اس کا ہمارے دین اور کلچر کے ساتھ کوی تعلق نہیں، لاپتہ افراد سےمتعلق کبھی کہا جاتا ہے 10 ہزارکبھی 20 ہزارکہتے ہیں، لاپتا افراد سے متعلق کمیشن بنایا گیاجس میں درخواستیں دی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان سےلوگ خود کہتے ہمارا بھائی یا بیٹا مسنگ ہوگیا اس سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسنگ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بی ایل اے میں شامل ہوگیا ہے، جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں، کچھ مسنگ پرسنزگوادر،کوئٹہ،مستونگ میں دہشتگردی میں مارے جاتے ہیں، بلوچستان کی پولیس ان بدمعاشوں کو رگڑنےکےلیےکافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی300 سےزائدبوگس ویب سائٹ بلوچستان کےخلاف پروپیگنڈا کررہی ہیں، بوگس ویب سائٹس مختلف پلیٹ فارمزکےذریعےنفرت اورتقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، ان کے پیچھے ہندوستان کا سائبرہوگا لیکن ہمارا بچہ بچی بھی کم نہیں، ہم بلوچستان کے عوام کو امپاور کرنا چاہتےہیں اور کررہے ہیں، ہر سال بلوچستان میں آئی ٹی میں 10800 طلبا کو تعلیم دی جاتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ 26 لاکھ افغان مہاجرین بھجوائے جاچکے ہیں، جانا ہے تو ویزا لیں، حکومت سے درخواست کریں، رکارڈ پر جائیں اور واپس آئیں، ابھی تک ہم 25 ارب کےقریب اسمگلڈسامان پکڑ چکے ہیں، ہارڈ اسٹیٹ میں اسمگلرز کی جگہ صرف جیل میں ہے، ساڑھے 4 ہزار بندے پکڑے جو ہیومین اسمگلنگ میں ملوث تھے۔