یورپ میں سخت لاک ڈاؤن سے 30 لاکھ جانیں بچ گئیں
شائع شدہ تاریخ 09 جون, 2020
یورپ میں سخت لاک ڈاؤن سے 30 لاکھ جانیں بچ گئیں امپریل کالج لندن کے ریسرچرز نے 11 ممالک میں لاک ڈاؤن کے اثرات کیلئے کی گئی ریسرچ میں لاک ڈاؤن کی شکل میں کیے گئے سخت اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات کافی پر اثر رہے ہیں اور ان کے باعث مئی کے آغاز تک کے پھیلاؤ کی شرح کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ رسرچرز نے بتایا کہ یورپ میں بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن سے کورونا کے پھیلاؤ کو محدود کیا گیا جس سے تقریباً لاکھ سے زائد لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی۔ تحقیق کے مطابق ری پروڈکشن ریٹ کسی متاثرہ شخص سے دوسرے میں وائرس منتقل ہونے کی اوسط بتاتا ہے مگر یہ ویلیو اگر ایک ہو تو مرض بڑی تیزی سے پھیلتا ہے، اس سے پہلے محققین نے اندازہ لگایا تھا کہ 11 ممالک آسٹریا، بیلجیئم، برطانیہ، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے، سپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوں گے۔ اس ریسرچ ماڈل کے تحت لاک ڈاؤن کے اقدامات نہ اٹھائے جانے کی صورت میں وبا سے اموات کے جو امکانات ظاہر کیے تھے، اگر اس کا موازنہ سامنے آنے والی اموات کی تعداد سے کیا جائے تو وائرس سے تقریباً 31 لاکھ کم اموات واقع ہوئی ہیں۔ امپیریل کالج کے مطالعے کے ساتھ ہی شائع ہونے والے ایک دوسرے مطالعے میں امریکی سائنسدانوں نے کہا کہ چین، جنوبی کوریا، اٹلی، ایران، فرانس اور امریکا میں موذی مرض کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن پالیسیوں پر عملدرآمد کی وجہ سے کورونا کے تقریباً 53 کروڑ کیسز کو سامنے آنے سے روکا جاسکا یا ان میں تاخیر ہوئی۔ یاد رہے کہ چین کے بعد یورپ کورونا وائرس کا مرکز بنا تھا جہاں اٹلی، اسپین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی وبا سے شدید متاثر ہوئے تھے مگر اب ان ممالک میں وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد کم ہورہی ہے جس کے بعد لاک ڈاؤن میں بھی بتدریج نرمی کی جارہی ہے اور زندگی معمول کی طرف لوٹنا شروع ہوگئی ہے اور مزید یہ کہ کاروبار زندگی بحال کی جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی بات کی جائے تو یہ تعداد71 لاکھ 99 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ 4 لاکھ 8 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔