چائے اور کافی سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
شائع شدہ تاریخ 11 ستمبر, 2026
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انتہائی گرم چائے، کافی اور دیگر مشروبات کا باقاعدگی سے استعمال کرنا غذا کی نالی کے ایک مخصوص قسم کے کینسر کے خطرے میں نمایاں اضافے سے منسلک ہوسکتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیرن پیپیئر کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جنہیں تقریباً 14 برس تک زیرِ مشاہدہ رکھا گیا۔
تحقیق کا مقصد گرم مشروبات کے استعمال اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لینا تھا۔
تحقیق میں شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ چائے، کافی یا دیگر مشروبات کس درجہ حرارت پر پینا پسند کرتے ہیں، جس کے جواب میں انہیں ’بہت گرم‘، ’گرم‘ یا ’نیم گرم‘ میں سے انتخاب کرنا تھا۔
نتائج کے مطابق جو افراد اپنے مشروبات انتہائی گرم درجہ حرارت پر پیتے تھے، ان میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما (ایس سی سی) کا خطرہ نیم گرم مشروبات استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ خطرہ صرف درجہ حرارت ہی نہیں بلکہ مشروبات کے استعمال کی مقدار سے بھی منسلک ہوسکتا ہے۔ روزانہ 6 یا اس سے زیادہ گرم مشروبات استعمال کرنے والے افراد میں 6 سے کم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں ایس سی سی کا خطرہ 71 فیصد زیادہ تھا۔
تاہم محققین کو گرم مشروبات کے استعمال اور غذائی نالی کے ایک اور اہم کینسر، جسے ایڈینو کارسینوما (اے سی) کہا جاتا ہے، کے درمیان واضح تعلق نہیں ملا۔
گرم مشروبات کینسر کا خطرہ کیوں بڑھا سکتے ہیں؟
محققین کے مطابق انتہائی گرم مشروبات سے غذائی نالی کی اندرونی سطح پر موجود خلیات کو بار بار حرارتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ مسلسل گرمی کا یہ اثر خلیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے جو کینسر کے آغاز میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تحقیق سے گرم مشروبات اور کینسر کے درمیان حتمی سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کے پروفیسر میو ٹیک ٹی کے مطابق تحقیق کی ایک اہم حد یہ ہے کہ مشروبات کا درجہ حرارت شرکا نے اپنی رائے کے مطابق بتایا، اس لیے ’بہت گرم‘ یا ’گرم‘ کی تعریف ہر شخص کے لیے مختلف ہوسکتی ہے۔
چائے اور کافی پینے والوں کے لیے کیا احتیاط ہے؟
ماہرین کے مطابق چائے یا کافی کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے انتہائی گرم مشروبات کو پینے سے پہلے کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دینا ایک سادہ احتیاطی اقدام ہوسکتا ہے۔
بین الاقوامی ریسرچ ایجنسی برائے سرطان نے 2016 میں انتہائی گرم مشروبات کو انسانوں کے لیے ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والا قرار دیا تھا۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ تمباکو نوشی اور الکحل کا استعمال غذائی نالی کے کینسر کے اہم خطرے والے عوامل میں شامل ہیں، اس لیے صرف مشروبات کے درجہ حرارت پر توجہ دینے کے بجائے مجموعی طرزِ زندگی بھی اہم ہے۔