آئس تھراپی کا جنون، برفیلے پانی میں ڈبکی کب جان لیوا ہوسکتی ہے؟

شائع شدہ تاریخ 18 اگست, 2026
آئس-تھراپی-کا-جنون،-برفیلے-پانی-میں-ڈبکی-کب-جان-لیوا-ہوسکتی-ہے؟

یہ ہائیڈرو تھراپی کی ایک ایسی تکنیک ہے جس میں جسم یا اس کے مخصوص حصوں کو چند منٹ کے لیے انتہائی ٹھنڈے پانی (عام طور پر 3 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ) میں ڈبویا جاتا ہے۔ ایتھلیٹس اور صحت سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس تھراپی کا استعمال جسم کو تروتازہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔

اگرچہ بنیادی طور پر ایتھلیٹس اور فٹنس کے شوقین افراد یہ طریقہ استعمال کرتے تھے، لیکن اب یہ عام لوگوں میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

کولڈ تھراپی کے اہم فوائد:

پٹھوں کے درد میں کمی: سخت ورزش کے بعد پٹھوں کے درد اور تھکاوٹ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے تاکہ اگلی ورزش کے لیے جلدی صحت یاب ہوا جا سکے۔

سوزش کا خاتمہ: سرد درجہ حرارت خون کے بہاؤ کو عارضی طور پر سست کر کے جسم میں سوزش کو کنٹرول کرتا ہے۔

تناؤ میں کمی اور توانائی میں اضافہ: ٹھنڈے پانی کی نمائش اعصابی نظام کو متحرک کرتی ہے، جس سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے، قوت مدافعت بڑھتی ہے اور ڈپریشن دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

خون کی گردش کی بہتری: پانی سے باہر نکلنے کے بعد جسم کا درجہ حرارت نارمل ہونے کی کوشش کرتا ہے، جو خون کی گردش کو تیز کر کے تمام حصوں تک آکسیجن کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

کس کو احتیاط کرنی چاہیے؟

ہارورڈ یونیورسٹی کے مطابق اگرچہ یہ طریقہ زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ ہے، لیکن درج ذیل افراد کو اس سے گریز یا ڈاکٹر کے مشورے سے عمل کرنا چاہیے۔

دل کے امراض والے افراد: اچانک ٹھنڈے پانی میں جانے سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشیئر میں تیز اضافہ ہو سکتا ہے۔

اعصابی مسائل کے شکار افراد: جن لوگوں کے اعصاب کمزور ہوں یا ہاتھوں پیروں میں بے حسی ہو، وہ سردی کی شدت محسوس نہ کر سکنے کی وجہ سے مزید نقصان اٹھا سکتے ہیں۔

کمزور مدافعتی نظام: بیمار یا کمزور قوت مدافعت والے افراد کے لیے ٹھنڈا پانی جسم پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

آئس تھراپی کرنے کا درست طریقہ:

ماہرین کا مشورہ ہے کہ سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر اندھا دھند گھر پر یہ عمل کرنے کے بجائے کسی ماہر کی نگرانی میں آغاز کرنا چاہیے۔ ابتدا میں صرف چند سیکنڈ یا 1 سے 2 منٹ تک کا وقت رکھیں تاکہ جسم اس تبدیلی کا عادی ہو سکے۔