لڑکوں میں آٹزم زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ سائنسدانوں نے اہم وجوہات تلاش کرلیں
شائع شدہ تاریخ 22 اگست, 2026
آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (اے ایس ڈی) دماغی نشوونما سے متعلق ایک کیفیت ہے جو انسان کے سماجی روابط، گفتگو، دوسروں کو سمجھنے اور باہمی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
اس لاعلاج مرض کی علامات اور شدت ہر فرد میں مختلف ہوتی ہیں، اسی لیے اسے ’’اسپیکٹرم‘‘ کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آٹزم کی علامات عموماً بچپن ہی میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں، بعض بچوں میں پہلے سال کے دوران علامات نمایاں ہو جاتی ہیں، جبکہ کچھ بچے ابتدائی طور پر معمول کے مطابق نشوونما پاتے ہیں اور 18 سے 24 ماہ کی عمر کے دوران ان میں کچھ صلاحیتیں متاثر ہونے لگتی ہیں۔
علاج کیسے ہوسکتا ہے؟
آٹزم کا فی الحال کوئی مکمل علاج موجود نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور ابتدائی مداخلت سے بچے کی سماجی، تعلیمی اور روزمرہ زندگی میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق آٹزم میں جینیاتی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر خاندان میں کسی قریبی فرد کو آٹزم ہو تو بچے میں اس کیفیت کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں آٹزم کی تشخیص زیادہ ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں آٹزم کی تشخیص میں لڑکوں اور لڑکیوں کا تناسب تقریباً 3:1 سے 4:1 تک بتایا جاتا ہے، یعنی ہر ایک آٹسٹک لڑکی کے مقابلے میں تقریباً تین سے چار لڑکوں میں اس کیفیت کی تشخیص ہوتی ہے۔
لڑکوں میں آٹزم کی شرح زیادہ ہونے کی ممکنہ وجوہات
ماہرین کے مطابق لڑکیوں میں دو ایکس کروموسوم جبکہ لڑکوں میں ایک ایکس اور ایک وائی کروموسوم ہوتا ہے۔ ’’فیمیل پروٹیکٹو افیکٹ‘‘ کے نظریے کے مطابق لڑکیوں میں دوسرا ایکس کروموسوم بعض جینیاتی تبدیلیوں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اس لیے آٹزم کی علامات ظاہر ہونے کے لیے لڑکیوں میں نسبتاً زیادہ یا شدید جینیاتی تبدیلیاں درکار ہو سکتی ہیں۔
ہارمونز کا کردار:
تحقیق میں دورانِ حمل ٹیسٹوسٹیرون کی سطح اور دماغی نشوونما کے درمیان ممکنہ تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ بعض نظریات کے مطابق زیادہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح دماغی نشوونما کے ایسے پہلوؤں کو متاثر کر سکتی ہے جن کا تعلق آٹزم کی بعض علامات سے ہو۔
لڑکیوں میں علامات کا مختلف انداز:
ماہرین کے مطابق آٹزم کی علامات لڑکیوں میں بعض اوقات کم نمایاں یا مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض لڑکیاں سماجی رویوں کی نقل کرنے اور دوسروں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں زیادہ کامیاب ہوتی ہیں، جس کے باعث ان کی علامات طویل عرصے تک نظر انداز ہو سکتی ہیں۔
اس کے نتیجے میں کچھ لڑکیوں میں آٹزم کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے یا بعض کیسز میں تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، ماہرین زور دیتے ہیں کہ بچوں میں سماجی رویوں، گفتگو، دلچسپیوں اور نشوونما میں غیر معمولی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر بروقت ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔