پاکستان نے 2 دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا
شائع شدہ تاریخ 21 مئی, 2026
تیل و گیس کیلئے کمپنیوں کے ساتھ پرو ڈکشن شیئرنگ معاہدے اور ایکسپلوریشن لائسنسزکے اجرا کا سلسلہ مکمل ہوگیا۔
جس کے بعد پاکستان نے تقریباً 2 دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کر دیا۔
ابتدا میں 8 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جبکہ ڈرلنگ تک پیش رفت کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً1 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے ۔
پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو تیل و گیس کی تلاش کیلئے انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کردیے گئے ۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آف شور بڈ راؤنڈ 2025 میں 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط 23 بلاکس کی منظوری دی گئی ۔ ماری انرجیز نے 18 جبکہ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو 8 ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ ہوئے ۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط حکومت کی توانائی پالیسی میں تاریخی سنگِ میل ہے۔