آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار: 24 گھنٹوں میں 26 بحری جہازوں کی آمد و رفت کا دعویٰ
شائع شدہ تاریخ 21 مئی, 2026
ایرانی حکام کے مطابق امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے باوجود آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطے اور اجازت کے بعد ہی سفر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی خلیجی آبنائے اتھارٹی نے ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا ہے جس میں مخصوص سمندری علاقے کو کنٹرول زون قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس علاقے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران کی اجازت لینا لازمی ہو گا۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے سے متعلق مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے تاہم ایران کو نئی فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو خطے میں مزید شدید ردِعمل سامنے آئے گا۔
اقوامِ متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے آئندہ 6 سے 12 ماہ میں عالمی غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے جبکہ توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ متوقع ہے۔