تباہ کن سیلاب، نیپال کے اسکول پرنسپل نے 1643 بچوں کو کیسے بچایا؟

شائع شدہ تاریخ 31 اگست, 2026
تباہ-کن-سیلاب،-نیپال-کے-اسکول-پرنسپل-نے-1643-بچوں-کو-کیسے-بچایا؟

نیپال میں دو روز قبل آنے والے تاریخ کے بدترین سیلاب نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور سیکڑوں جانیں نگل لیں، وہیں ایک اسکول پرنسپل کی حاضر دماغی نے 1643 بچوں کو ممکنہ موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نواکوٹ کی وادی تریشولی میں واقع تری بھون تریشولی سیکنڈری اسکول میں بدھ کو معمول کے مطابق تدریس جاری تھی کہ صبح 9:20 پر پرنسپل راجندر دواڑی کو ایک دوست کی ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ خوفناک سیلابی ریلہ گاؤں کو بہاتا ہوا اسکول کی جانب بڑھ رہا ہے۔

پرنسپل نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسکول کی گھنٹی بجائی، اساتذہ کو کلاس رومز خالی کرنے کا حکم دیا اور تمام بچوں کو بلند مقام کی جانب منتقل کر دیا۔

دوران سفر ایک بچی کی حالت غیر ہوئی تو اسے موٹرسائیکل پر بٹھا کر بلندی پر پہنچایا گیا، بچے ابھی محفوظ مقام پر پہنچے ہی تھے کہ سیلابی ریلہ پوری شدت سے آیا اور وہ تین منزلہ اسکول سمیت کئی عمارتوں کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔

یوں پرنسپل کے ایک بر وقت فیصلے نے ایک بڑے انسانی المیے کو ٹال دیا۔ نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 800 سے زیادہ ہو گئی ہے، تین ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔