ترکیہ کے اسکول میں فائرنگ، 8 طلبہ اور ایک استاد جاں بحق

شائع شدہ تاریخ 16 اپریل, 2026
ترکیہ-کے-اسکول-میں-فائرنگ،-8-طلبہ-اور-ایک-استاد-جاں-بحق

تفصیلات کے مطابق ترکیہ کے علاقے قہرمان مرعش میں واقع ‘ایسر کالک سیکنڈری اسکول’ اس وقت میدانِ جنگ بن گیا جب ایک 14 سالہ طالب علم نے کلاس رومز میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کر دی۔

ترک وزیر داخلہ مصطفیٰ چیفتچی نے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ حملہ آور طالب علم بھی مارا گیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں 8 طلبہ اور ایک استاد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فائرنگ سے 13 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے 6 کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور طالب علم کے پاس 5 بندوقیں اور 7 میگزین موجود تھے، اس نے دو کلاس رومز میں داخل ہو کر "رینڈم” فائرنگ کی۔

گورنر مکرم اونلور کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے اپنے والد کا اسلحہ استعمال کیا جو کہ ایک سابق پولیس افسر ہیں تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کے والد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ تاحال حملے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے کے وقت خوفزدہ طلبہ نے اپنی جان بچانے کے لیے اسکول کی پہلی منزل کی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا دیں۔ اسکول کے باہر موجود والدین کی بڑی تعداد اپنے بچوں کے لیے روتی بلکتی رہی۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (X) پر اپنے پیغام میں متاثرہ خاندانوں، بچوں اور اساتذہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

واضح رہے کہ ترکیہ میں اسکول پر حملے کا یہ مسلسل دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی ملک کے جنوبی علاقے میں ہی ایک سابق طالب علم نے ہائی اسکول میں فائرنگ کر کے 16 افراد کو زخمی کیا تھا اور بعد ازاں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔