پاکستان کی جوہری صلاحیت مکہ معاہدے کو دفاعی وزن دیتی ہے: عالمی جریدہ

شائع شدہ تاریخ 21 اگست, 2026
پاکستان-کی-جوہری-صلاحیت-مکہ-معاہدے-کو-دفاعی-وزن-دیتی-ہے-عالمی-جریدہ

معروف عالمی جریدے بلومبرگ اور آذربائیجان کے جریدے کالیبر کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” خطے کے دفاع کے لیے ایک نئی بنیاد رکھ چکا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اہم علاقائی طاقتوں کو ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں جوڑتا ہے، جس میں یہ بنیادی اصول طے کیا گیا ہے کہ ’ایک پر حملہ سب پر حملہ‘ تصور ہوگا۔

جریدوں کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کا اعتراف ہے کہ خطے کے ممالک کو اب نئے شراکت داروں اور علاقائی صف بندیوں کی تشکیل کرنا ہوگی۔

آذربائیجان کے جریدے کالیبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنانے کی ایک اہم علامت قرار دیا ہے۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد علاقائی نظام میں موجودہ انتشار کو روکنا ہے۔

کالیبر نے اپنے تجزیے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت اور اس کی افرادی قوت اس مکہ معاہدے کو انتہائی مضبوط دفاعی وزن فراہم کرتی ہے۔

کالیبر کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے لیے امن کا ضامن اور ایک فعال نیٹ سیکیورٹی فراہم کار کے طور پر ابھرا ہے۔