حکومت کا پٹرول اور ڈیزل سے متعلق اہم اعلان
شائع شدہ تاریخ 29 جولائی, 2026
ریفائننگ کے شعبے میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور حکومت نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت نے آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی ایس آئی ایف سی سمیت متعلقہ اداروں کی تجاویز کی روشنی میں تیار کی گئی۔ پالیسی کا مقصد پرانی ریفائنریوں کو جدید بنانا، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار بڑھانا، فرنس آئل کی پیداوار نمایاں طور پر کم کرنا اور ایندھن کا معیار بہتر بنانا ہے۔
نئی پالیسی انرجی سیکیورٹی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یورو 5 معیار کا ایندھن تیار کرنے کے لیے ریفائنریز کو 7 سالہ پیکیج دیا جائے گا۔ جب کہ ریفائنریز پالیسی کی منظوری کے 90 دن کے اندر اوگرا کے ساتھ معاہدہ کریں گی۔
نئی پالیسی میں ریفائننگ کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری لانے کے لیے شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ پالیسی میں ٹیکسوں میں رد وبدل، ماحولیاتی قانون سازی اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز سے ریفائنریوں کو تحفظ دیا گیا ہے۔
ریفائنریز کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت ہوگی۔ آئل ریفائنریاں 14 دن کاخام تیل کا ذخیرہ برقرار رکھیں گی۔
درآمدی خام تیل پر انحصار والی ریفائنریاں پانچ دن کا اضافی ذخیرہ رکھیں گی جب کہ ریفائنریز کو پہلے والا مراعاتی پیکیج ترک کر کے نیا پیکیج لینا ہوگا۔
نئی پالیسی میں مقررہ مدت میں اپ گریڈیشن مکمل نہ کرنے والی ریفائنریز کے خلاف تادیبی کاروائی نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز شامل ہے۔
ریفائنریوں کو مراعاتی پیکج سے قبل پٹرولیم لیوی، کلائیمیٹ سپورٹ لیوی کے بقایاجات کلیئر کرنا ہوں گے۔ اوگرا کے ساتھ قانونی طور پر لازم اپ گریڈ معاہدوں کے ذریعے نگرانی، عملدرآمد اور احتساب کا نظام مضبوط ہوگا۔