جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان میں متعدد گھر دھماکوں سے اڑا دیے
شائع شدہ تاریخ 20 اپریل, 2026
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حزب اللّٰہ کے ساتھ جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، ہفتے کی شام جنوبی لبنان کے 4 قصبوں میں متعدد گھروں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔
اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے متعدد فوجی کمانڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ رہائشی مکانات، عوامی عمارتیں اور اسکول باقاعدہ پالیسی کے تحت منہدم کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کو صاف کیا جا سکے، یہ علاقہ اس وقت لبنانی حدود میں اسرائیلی فوج کے قائم کردہ بفر زون کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللّٰہ شہری انفرااسٹکچر کو اسلحہ ذخیرہ کرنے یا گھروں کے نیچے سرنگیں بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ماضی میں آئی ڈی ایف حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ کارروائیاں صرف حزب اللّٰہ کے بنیادی انفرااسٹکچر تک محدود ہیں، تاہم اسرائیلی اخبار کے مطابق زمینی صورتِ حال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر عسکریت پسند گروہ کے زیرِ استعمال عمارتوں میں فرق نہیں کیا جا رہا بلکہ مکمل قصبوں کو زمین بوس کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مسمار کرنے کا عمل ٹھیکیداروں کے ذریعے کروایا جا رہا ہے، جن میں بعض کو تباہ کی جانے والی عمارتوں کی تعداد کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔
فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ آئی ڈی ایف لبنان میں وہی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے جو غزہ میں شہری انفرااسٹکچر کی مسماری کے حوالے سے اختیار کی گئی تھی۔
ایک کمانڈر کے مطابق اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں لبنانی شہریوں کی واپسی کو روکنا ہے۔
گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کٹز نے اس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبنانی سرحد کے قریب دیہات کے تمام مکانات کو رفح اور بیت حنون کے ماڈل کے تحت مسمار کیا جائے گا تاکہ سرحد کے قریب خطرات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔