بحران کے آثار، متحدہ عرب امارات کا امریکا سے فنانشل سپورٹ کا مطالبہ
شائع شدہ تاریخ 20 اپریل, 2026
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اماراتی حکام نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ساتھ اہم ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی صورت حال اور ایران جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، ایران جنگ طول پکڑنے کی صورت میں ڈالر تک رسائی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
یو اے ای مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلامہ نے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خزانہ کے حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں، اور کرنسی سویپ لائن قائم کرنے کی تجویز پیش کی، اماراتی حکام کا کہنا تھا اب تک جنگ کے بڑے معاشی اثرات سے بچے ہوئے ہیں، لیکن حالات بگڑنے پر مالی لائف لائن کی ضرورت پڑ سکتی ہے، امریکی حکام نے بھی یو اے ای کی مالی بیک اسٹاپ کی درخواست کی تصدیق کر دی۔
متحدہ عرب امارات کو یہ خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ خلیجی تیل سے مالا مال اس ریاست کو گہرے بحران میں دھکیل سکتی ہے، اس صورت میں امریکی مالی سہارا مددگار ہو سکتا ہے، ان مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امارات کو خدشہ ہے کہ یہ جنگ اس کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور سرمایہ کار، جو اسے ایک محفوظ مقام سمجھتے تھے، دور ہو سکتے ہیں۔