کرد وزیراعظم کے دفتر پر ڈرون حملہ، ایران کا ’فالس فلیگ‘ آپریشن قرار دینے کا دعویٰ

شائع شدہ تاریخ 18 اگست, 2026
کرد-وزیراعظم-کے-دفتر-پر-ڈرون-حملہ،-ایران-کا-فالس-فلیگ-آپریشن-قرار-دینے-کا-دعویٰ

ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کردستان علاقے کے وزیراعظم کے دفتر پر ڈرون حملے کو فالس فلیگ آپریشن قراردیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم برزانی کے دفتر پر حملے کا کوئی جواز ہی پیش نہیں کیا جاسکتا۔ 

ایرانی وزیرخارجہ نے عراقی ہم منصب کو ٹیلی فون پر بھی واضح کیا کہ حملہ ایرانی سرزمین سے کیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں۔ کرد دوستوں کو خبردار رہنا چاہیے کہ فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے پڑوسیوں کے درمیان نفرت کے بیج بونےکی کوشش کی جارہی ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے کرد دوستوں کو صدام اور داعش سے محفوظ رکھا اور ایران شکرگزار ہےکہ کرد ہماری سرحد پر سکیورٹی مہیا کررہے ہیں۔ 

یاد رہے کہ عراق کے کردستان علاقے کے وزیراعظم مسرور برزانی اور انٹیلی جنس چیف کے گھر پر پیر کو ڈرون حملے کیے گئے تھے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

واقعہ کی ذمہ داری کسی گروپ نے تاحال قبول نہیں کی۔