پاکستان میں مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات دیے جانے کا انکشاف
شائع شدہ تاریخ 16 ستمبر, 2026
تفصیلات کے مطابق ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ادویات لکھی جا رہی ہیں۔
اس صورتحال پر عالمی ادارۂ صحت نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ غیر ضروری ادویات کے استعمال سے جہاں علاج کا خرچ بڑھ جاتا ہے، وہیں صحت پر بھی انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق پاکستان میں ایک ہی نسخے پر معمول سے ہٹ کر اوسطاً 4 سے 5 مختلف ادویات درج کر دی جاتی ہیں۔
ملک میں صرف 25 فیصد (چار میں سے ایک) ادویات جنیرک یا اصل نام سے لکھی جاتی ہیں جبکہ ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق ادویات جنیرک ناموں سے تجویز کی جانی چاہئیں تاکہ مریض کو سستی اور معیاری دوا مل سکے۔
پاکستان میں تجویز کردہ نسخوں میں سے تقریباً 45 فیصد میں اینٹی بائیوٹکس شامل ہوتی ہیں، جو کہ عالمی اداروں کے مقرر کردہ محفوظ معیار سے کہیں زیادہ ہے اور اس سے ‘اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس’ (ادویات کا بے اثر ہونا) کا خطرناک رجحان بڑھ رہا ہے۔