اے آئی انسانوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے، خوفناک انکشاف
شائع شدہ تاریخ 16 ستمبر, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی انسانیت کیلئے انتہائی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ملازم بلال چغتائی نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے اور اس خطرے سے بچنے کے لیے دنیا کے پاس وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
اپنی ایکس پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں گوگل ڈیپ مائنڈ سے استعفیٰ دیا ہے، جہاں وہ مصنوعی عمومی ذہانت (اے جی آئی) کی حفاظت اور ’الائنمنٹ‘ سے متعلق تحقیق پر کام کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ اے آئی میں پوری انسانیت کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور ممکن ہے کہ اس انجام سے بچنے کے لیے دستیاب وقت محدود ہوتا جارہا ہو۔
بلال چغتائی کے مطابق مصنوعی ذہانت کو محفوظ انداز میں آگے بڑھانے کا راستہ موجود ہے تاہم اس کیلئے اے آئی کمپنیوں کے درمیان جاری تیز رفتار مقابلے کے بجائے باہمی تعاون کی ضرورت ہے، دنیا کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کی ایسی رفتار درکار ہے جسے معاشرہ سنبھال سکے۔
یاد رہے کہ بلال چغتائی نے جولائی 2026 میں کمپنی سے استعفیٰ دیا تھا ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر نامور ماہرین کی جانب سے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسون نے بھی استعفیٰ دینے کے بعد کہا تھا کہ ان کے فیصلے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اے آئی تیار کرنے والے بعض افراد سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
اس بیان کے بعد اینتھروپک کے سائنس دان ایون ہوبنگر نے بھی کوکسون کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مؤقف درست ہے۔ ہوبنگر کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ ایک دہائی کے دوران اے آئی کے ہاتھوں تمام انسانوں کے ختم ہوجانے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔