رات کی شفٹ میں کام کرنے والے خبردار، اس بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
شائع شدہ تاریخ 27 اگست, 2026
طرز زندگی میں تبدیلی کا زندگی پرکافی اثر پڑتا ہے ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے لوگ صبح ورکنگ کرنے والوں کے مقابلے زیادہ ذہنی تناؤ سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں محققین نے پہلے شائع شدہ 7 مطالعات میں حصہ لینے والے 28438 لوگوں کے کام کے گھنٹوں اور ان کی ذہنی صحت کا گہرائی سے مطالعہ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے۔
بزنس نیوز اسٹینڈرڈ نے رائٹرز کے حوالے سے کہا ہے کہ اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات میں کام کرنے والے 33 فیصدی لوگوں میں ڈپریشن اور فکر کی علامات دیکھنے میں آتے ہیں بجائے ان لوگوں کے جو دن کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔
یو کے میں یونیورسٹی آف ایکزیٹر اس اسٹڈی کی قیادت کرنے اور لکھنے والی لوسیانا ٹورکیوٹی کا کہنا ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والوں کی باڈی کلاک میں کافی گڑبڑیاں آتی ہیں۔ عام طور پر ہماری باڈی کلاک کے مطابق دن اور رات کے حساب سے نیند متاثر ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں میں چڑچڑا پن پیدا ہوسکتا ہے اور کئی مرتبہ وہ موڈی بھی ہوسکتے ہیں۔
اس وجہ سے کئی مرتبہ وہ سب کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اکیلے پن کا شکار ہوسکتے ہیں اور کام کے چلتے گھر، فیملی، دوستوں اور زندگی میں دیگر کئی چیزوں کی طرف دھیان بھی نہیں دے پاتے ہیں۔
امریکن جرنل آف پبلک ہیلتھ کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ مردوں کے مقابلے خواتین کی ذہنی صحت کیلئے نائٹ شفٹ زیادہ خراب اثر پیدا کر سکتی ہے۔