عمران خان کی اسپتال منتقلی کیوں مؤخر ہوئی؟ اندرونی تفصیلات منظرعام پر
شائع شدہ تاریخ 26 فروری, 2026
پارٹی ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان سے رابطہ کیا اور 14 فروری کو کہا کہ دو ڈاکٹروں کے نام دے دیں تاکہ انہیں جیل بھیجا جا سکے تاہم علیمہ خان نے ڈاکٹروں کو جیل بھیجنے کی مخالفت کی اور عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر زور دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ علیمہ خان پی ٹی آئی دھرنوں کے دوران تمام معاملات سے آگاہ تھیں اور مرکزی قائدین سے مسلسل رابطے میں رہیں، بعد ازاں ایک اور رابطے میں بیرسٹر گوہر نے انہیں بتایا کہ حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر آمادہ ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے لیے قاسم زمان پر اعتراض کیا اور مسلسل ڈاکٹر نوشیروان برکی کے نام پر اصرار کرتی رہیں جب کہ اس معاملے پر ایک کانفرنس کال بھی کی گئی جس میں پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین بھی شریک تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی اس بات پر متفق تھی کہ علیمہ خان کے طرزِ عمل کے باعث عمران خان کو اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔
دوسری جانب ایاز صادق اور محسن نقوی مسلسل پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں رہے جب کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عمران خان کے علاج سے متعلق ذاتی طور پر متعلقہ اداروں سے رابطے میں تھے۔