حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں یا نہیں؟ بلاول بھٹو کا دلچسپ جواب

شائع شدہ تاریخ 20 اگست, 2026
حکومت-اور-اسٹیبلشمنٹ-ایک-پیج-پر-ہیں-یا-نہیں؟-بلاول-بھٹو-کا-دلچسپ-جواب

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں یا نہیں تبصرہ نہیں کر سکتا۔ پیج ایک بھی ہو سکتا ہے، لیکن دال میں کچھ تو کالا ہے۔

بلاول بھٹو نے واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک حکومت سے تعاون معطل رہے گا۔ نئے صوبوں پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ادارے کا موقف نہیں رکھا بلکہ صرف ایک سوال کا جواب دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی کا موقف واضح ہے کہ اتفاق رائے ہو تو صوبہ بنایا جائے۔ عوام کا جو فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی ساتھ کھڑی ہوگی۔ ہم زور زبردستی سے نہ کل مانے ہیں نہ کبھی مانیں گے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سیاست میں اتنا تجربہ نہیں رکھتے۔ اگروہ موجودہ نظام ناکارہ ہونے کی بات کر رہے ہیں تو پھر وہ میرے الٹی گنتی والے بیان کو درست سمجھیں۔

بلاول بھٹو نے بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو ویلکم کرتے ہوئے کہا کہ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو صحت دے۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے بجائے اگر حکومت خود ان کا علاج کراتی تو بہتر ہوتا۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ 28 ویں ترمیم کیلیے آج تک کوئی پروپوزل ہمارے سامنے نہیں آیا۔ حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی کر سکتی ہے تو کر لے۔

ان کا کہنا تھا کہ کون کہتا ہے ہم نئے صوبوں کےخلاف ہیں۔ سینیٹ کمیٹی نے جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی، سندھ اسمبلی نے اس سے متعلق کوئی قرارداد پاس کی ہو تو بتائیں۔