جان لیوا وائرس کے خوف سے چینی فلموں کی آن لائن ریلیز
شائع شدہ تاریخ 25 جنوری, 2020
چین امریکا کے بعد فلموں کی دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور کورونا وائرس کے نتیجے میں وہاں ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں ایک کامیڈی فلم کو انٹرنیٹ پر ریلیز کیا جارہا ہے جس کا لوگوں کو شدت سے انتظار تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ سنیماﺅں میں ناظرین جان لیوا وائرس کا شکار نہ ہوجائیں۔ ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ہونشائی میڈیا گروپ نے جمعے کو بیجنگ بائیٹ ڈانس نیٹ ورک سے معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت نئی فلم 'لوسٹ ان رشیا' کو بائیٹ ڈانس کے آن لائن پلیٹ فارمز پر دکھایا جائے گا۔ٹک ٹاک جیسی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ایپ اور نیوز ایپ جنری ٹویٹیاﺅ کی ملکیت رکھنے والی کمپنی بائیٹ ڈانس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لوگوں کے بڑے اجتماع کے خطرے کو کم کرنے کی کوششوں کے لیے یہ معائدہ کیا گیا ہے جو مداحوں کو یہ فلم ایپس میں مفت دیکھنے کی سہولت فراہم کرے گا۔ بائیٹ ڈانس نے 63 کروڑ چینی یوآن کے عوض اس فلم کے اسٹریمنگ رائٹس اپنے نام کیے۔کمپنی کے مطابق 'اس فلم کو 25 جنوری کے دن سب نے دیکھنا تھا مگر اب اسے دیکھنے کا مقام سنیما کی جگہ موبائل فون اور ٹیلی فون ہوگیا ہے'۔دونوں کمپنیوں نے اس معاہدے کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں چین میں 25 افراد ہلاک جبکہ 800 سے زائد اس کا شکار ہوچکے ہیں، جس کے بعد 10 شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل اور ملک بھر میں عوامی اجتماعات کو روکنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔چین میں 25 جنوری سے نئے تقویمی سال کا آغاز ہورہا ہے اور اس موقع پر لوگ بڑی تعداد میں سنیماﺅں کا رخ کرتے ہیں مگر وائرس کے باعث کم از کم 7 فلموں بشمول لوسٹ ان رشیا کے پریمیئر کو ملتوی کردیا گیا ہے۔