امریکی پابندیوں کے بعد ایران کا کروڑوں بیرل تیل سمندر میں رک گیا

شائع شدہ تاریخ 09 جولائی, 2026
امریکی-پابندیوں-کے-بعد-ایران-کا-کروڑوں-بیرل-تیل-سمندر-میں-رک-گیا

امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق ویسل ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے لاکھوں بیرل خام تیل سے لدے ٹینکرز خلیجِ فارس سے لے کر آبنائے ملاکا تک مختلف مقامات پر یا تو سفر کر رہے ہیں یا لنگر انداز ہیں، جس کے باعث ان کی ترسیل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی مزید سخت کر دی تو تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات بھی برآمد نہ ہو سکیں گی۔

واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی تھیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل فروخت کے لیے دی گئی رعایت کی مدت بھی کم کر دی ہے۔ اس سے قبل ایران کو 21 اگست تک تیل فروخت کرنے کی اجازت حاصل تھی، تاہم نئی پابندیوں کے تحت یہ مدت محدود کرکے 17 جولائی تک کر دی گئی ہے، جس سے ایران کی تیل برآمدات اور معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔