ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عمران خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا، وزیراعظم سے جواب طلب
شائع شدہ تاریخ 21 فروری, 2026
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے خلاف لاہور کی ٹرائل کورٹ کو شہباز شریف کے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے مقدمے میں حق دفاع کے خاتمہ کے خلاف نطر ثانی کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہو جواب طلب کرلیا۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ میرا موکل ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث شدید زخمی تھا اور عدالت میں پیش نہیں ہو سکا ، جس کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے اس کاحق دفاع ختم کردیا۔
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ جب ٹرائل کورٹ نے خود تسلیم کیا ہے کہ عمران خان زخمی تھے، دو تاریخوں پر ان کے زخمی ہونے کی بنیاد پر انہیں حاضری سے استثنیٰ بھی دیا گیا تھا، تو پھر ان کا حق دفاع کیسے ختم کیا جا سکتا تھا ؟
فاضل وکیل نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں اور مقدمہ آخری مراحل میں ہے، مدعی شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے مئی 2025 میں اپنا بیان بھی قلمبند کروا چکے ہیں۔
عدالت نے فاضل وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ 2017 میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف نے انہیں ’پانامہ پیپرز لیکس‘ کیس میں خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس کے بدلے انہیں 10ارب روپے رشوت کی پیشکش کی تھی، تاہم شہباز شریف نے ان الزامات کو بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ میں ان کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعوی دائر کیا تھا۔