کیا بارش کے موسم میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟
شائع شدہ تاریخ 29 جولائی, 2026
ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران موسم میں اچانک تبدیلی، بڑھتی ہوئی نمی اور انفیکشن کے امکانات خاص طور پر ان افراد کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں جو پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول یا دل کے امراض میں مبتلا ہوں۔
نیورولوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش کے اس موسم میں درجہ حرارت اور نمی میں اتار چڑھاؤ جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض افراد کا بلڈ پریشر غیر متوازن ہو سکتا ہے۔
یہی تبدیلی فالج کے خطرے میں اضافہ کرنے والے عوامل میں شامل ہے، خصوصاً ان مریضوں میں جنہیں پہلے سے دل یا خون کی شریانوں سے متعلق مسائل درپیش ہوں۔
ماہرین کے مطابق بارش کے موسم کے دوران وائرل انفیکشن، نزلہ، کھانسی، معدے کی خرابی اور پانی کی کمی کے کیسز بھی زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔
یہ تمام کیفیات جسم پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں، جس سے بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ معمولاتِ زندگی میں تبدیلی، جسمانی سرگرمی میں کمی، نیند کا متاثر ہونا اور ادویات کے استعمال میں بے احتیاطی بھی خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔
بی ای، ایف اے ایس ٹی کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فالج کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی ابتدائی علامات سے آگاہی بے حد ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ’بی ای، ایف اے ایس ٹی‘ کے اصول کو یاد رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اگر کسی شخص کا اچانک جسمانی توازن بگڑ جائے، بینائی متاثر ہو، چہرے کا ایک حصہ ڈھلک جائے، ایک بازو یا ٹانگ میں کمزوری محسوس ہو یا بولنے میں دشواری پیش آئے تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے لہٰذا بی ای ایف اے ایس ٹی اصول یاد رکھیں۔
بی- اچانک توازن کھو جانا
ای- بینائی میں تبدیلی
ایف- چہرے کا جھک جانا (چہرے کا ایک طرف جھک جانا)
اے- بازو کی کمزوری
ایس- بات کرنے میں دشواری
ٹی- ہنگامی طبی مدد حاصل کرنے کا وقت۔
ماہرین کے مطابق بروقت علاج سے جان بچانے کے ساتھ مستقل معذوری کے امکانات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
صحت کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہائی رسک افراد اپنے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کا باقاعدگی سے معائنہ کرائیں، ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات وقت پر استعمال کریں اور ورزش یا جسمانی سرگرمی کا معمول برقرار رکھیں۔
اسی طرح متوازن غذا، نمک کا کم استعمال، تمباکو نوشی سے اجتناب اور مناسب مقدار میں پانی پینا بھی فالج کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مون سون بذاتِ خود خطرناک موسم نہیں، بلکہ اصل خطرہ ان بیماریوں کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوتا ہے جو پہلے سے موجود ہوں۔
اگر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کے امراض کو سال بھر قابو میں رکھا جائے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے تو فالج سمیت کئی پیچیدگیوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔