امریکا کی 9 ریاستوں میں خطرناک وبا پھیل گئی
شائع شدہ تاریخ 29 جولائی, 2026
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں آنتوں کے انفیکشن کا باعث بننے والے سائیکلوسپوریاسس نامی جرثومے کے پھیلاؤ کے سبب اب تک 8 ہزار 1سو سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی فنڈنگ میں کمی اور صحت کے شعبے میں عملے کی قلت کے باعث وبا پر قابو پانے کی کوششیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے 14 جولائی کو اس بیماری سے متعلق ہیلتھ وارننگ جاری کی تھی، تاہم مشی گن حکام نے اس سے دو ہفتے قبل ہی غیر معمولی وبا سے خبردار کر دیا تھا۔
یہ بیماری مبتلا مریض کو شدید اسہال، پیٹ کے درد میں مبتلا کرکے معدے کی دیگر پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ وبا اب تک امریکا کی 9 ریاستوں تک پھیل چکی ہے، تاہم سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مشی گن ہے، جہاں مریضوں کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، وفاقی گرانٹس اور طبی عملے کی کمی کے باعث وبا سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
ریاست مشی گن کی چیف میڈیکل ایگزیکٹو ڈاکٹر نتاشا باگداساریان کے مطابق مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی اور دیگر شعبوں کے عملے کو بھی وبا پر قابو پانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ابتدائی تحقیقات میں وبا کا تعلق ٹیکو بیل ریسٹورنٹس میں استعمال ہونے والی آئس برگ لیٹس سے جوڑا ہے، جو ٹیلر فارمز کے میکسیکو میں واقع فارموں سے فراہم کی گئی تھی۔
اس کے بعد ٹیکو بیل نے ملک بھر میں مذکورہ سپلائر سے لی گئی لیٹس کا استعمال بند کر دیا ہے جبکہ ٹیلر فارمز نے بھی متعلقہ لیٹس مارکیٹ سے واپس منگوالی ہے۔
تاہم مشی گن کے حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 12 فیصد مریض ایسے ہیں جن کا نہ تو لیٹس کھانے سے تعلق سامنے آیا ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی فاسٹ فوڈ چین سے کھانا کھایا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا کے دیگر ممکنہ ذرائع بھی موجود ہوسکتے ہیں۔