ایبولا سے بچاؤ کیلئے نئی ویکسین کی آزمائش شروع
شائع شدہ تاریخ 14 جولائی, 2026
برطانیہ کے ریگولیٹر کی جانب سے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کی منظوری کے بعد ایبولا کی ایک نئی ویکسین کا انسانوں پر تجربہ کیا جائے گا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے آٹھ ہفتے قبل اس ویکسین کو تیار کرنا شروع کیا تھا جب 17 مئی کو صحت عامہ کی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ کلینکل ٹرائلز میں داخل ہونے والی چار ویکسین میں سے پہلی تیز ترین تیار کر دہ ہے۔
ٹرائل کے لیے رضاکاروں کو بھرتی کیا جا رہا ہے جس کی توقع ہے کہ پہلی خوراک برطانیہ میں صحت مند بالغوں کو "ہفتوں کے اندر” دی جائے گی۔
ویکسین
رپورٹس کے مطابق مشرقی جمہوریہ کانگو میں ایبولا بنڈی بوجیو وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اس وائرس کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔
سیپی کے سربراہ رچرڈ ہیچیٹ نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی مراحل کی ویکسینز چند ماہ کے اندر کلینیکل ٹرائلز کے لیے تیار کی جاسکتی ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقی کانگو کی غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال ٹرائلز کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو میں اب تک ایبولا کے 282 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں 42 اموات شامل ہیں، جبکہ تقریباً 1100 مشتبہ کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں، یوگنڈا میں بھی 9 کیسز اور ایک ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
سیپی نے موڈرنا کی تجرباتی ویکسین کے پری کلینیکل اور ابتدائی کلینیکل ٹرائلز کے لیے 5 کروڑ ڈالر تک کی امداد مختص کی ہے۔ موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن بینسل کے مطابق کمپنی پہلے ہی ایبولا پر ابتدائی تجربات میں مثبت نتائج حاصل کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویکسین کا مقصد مہلک وائرس سے تحفظ فراہم کرنا اور خوراک کے نظام کو آسان بنانا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ویکسین ایک خوراک پر مشتمل ہوگی یا دو خوراکوں پر۔