کینسر کی جلد تشخیص کیلئے جدید طریقہ متعارف

شائع شدہ تاریخ 10 جولائی, 2026
کینسر-کی-جلد-تشخیص-کیلئے-جدید-طریقہ-متعارف

برسوں سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں بحث اور خدشات کے درمیان جھولتی رہی ہے لیکن اب محققین اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک، یعنی کینسر کے اسرار کو سمجھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اس کوشش کے مرکز میں دہلی کے ’اندرا پرستھ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ (آئی آئی آئی ٹی) کے اختراع، تحقیق اور ترقی کے ایسوسی ایٹ ڈین دیبارکا سین گپتا ہیں جو اے آئی اور جینومکس کی مدد سے کینسر کی جلد تشخیص، ٹیومر کے رویے کو سمجھنے اور ڈاکٹروں کو ہر مریض کے لیے موزوں علاج کے انتخاب میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

کینسر کو صرف ایک بیماری یا کسی ایک جین میں تبدیلی (میوٹیشن) کے طور پر دیکھنے کے بجائے سین گپتا کی لیبارٹری اسے ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام کے طور پر دیکھتی ہے جس کے مطالعے میں مالیکیولر بایولوجی، جینومکس، سنگل سیل تجزیہ، مائیکروفلوئیڈکس اور اے آئی کو یکجا کیا جاتا ہے۔

سین گپتا نے بتایا کہ ان کا مقصد خون، ٹشوز یا وسیع حیاتیاتی ڈاٹا میں اکثر پوشیدہ رہنے والے کینسر کے معمولی اشاروں کی نشاندہی کرنا اور انہیں ایسی معلومات میں تبدیل کرنا ہے جنہیں ڈاکٹر عملی طور پر استعمال کر سکیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اے آئی محققین کو ہزاروں جینز، مختلف اقسام کے خلیات اور طبی ریکارڈز کا بیک وقت تجزیہ کرنے کی سہولت دیتا ہے، جس سے ایسے نمونے (پیٹرنز) سامنے آتے ہیں جن کی دستی طور پر شناخت تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔