مصنوعی مٹھاس سے متعلق سائنسدانوں کا تشویشناک انکشاف
شائع شدہ تاریخ 06 جولائی, 2026
مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) کو طویل عرصے سے چینی کا صحت مند متبادل قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس تصور پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تحقیق کے مطابق عام استعمال ہونے والے کئی مصنوعی سویٹنرز خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے بجائے اس کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی مٹھاس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ جسم کے میٹابولزم اور خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ٹفٹس یونیورسٹی کے فریڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پالیسی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مینگ وانگ اور ان کی ٹیم نے 21 رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز کا جائزہ لیا، جن میں مصنوعی سویٹنرز استعمال کرنے والے افراد کا موازنہ پانی یا کیلوری سے پاک پلیسبو استعمال کرنے والوں سے کیا گیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں فاسٹنگ انسولین اور ایچ بی اے 1 سی کی سطح نسبتاً زیادہ رہی۔ ایچ بی اے 1 سی خون میں شوگر کے طویل مدتی کنٹرول کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔
محققین کے مطابق نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مصنوعی سویٹنرز استعمال کرنے والوں میں انسولین کی حساسیت میں بھی کمی دیکھی گئی، اگرچہ اس حوالے سے شواہد نسبتاً کمزور تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے جسم پر اثرات پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں، لہٰذا اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔