چین میں راکٹ لانچ ہوتے ہی پھٹ گیا، خوفناک مناظر سامنے آگئے

شائع شدہ تاریخ 11 اگست, 2026
چین-میں-راکٹ-لانچ-ہوتے-ہی-پھٹ-گیا،-خوفناک-مناظر-سامنے-آگئے

سرکاری میڈیا نے بتایا کہ یہ ناکامی ’’پرواز کے دوران پیش آنے والی خرابی‘‘ کے باعث ہوئی۔ روئٹرز کے مطابق مارچ 2020 میں پہلی پرواز کے بعد یہ اس راکٹ کی پہلی ناکامی تھی۔

چین نے کہا ہے کہ ’چائنا سیٹ-4B‘ سیٹلائٹ لے جانے والے لانگ مارچ 7A راکٹ کی لانچنگ ناکام ہو گئی ہے۔ پیر کو جنوبی جزیرے کے صوبے ہینان میں واقع وین چانگ خلائی لانچ مرکز سے روانگی کے بعد راکٹ میں پرواز کے دوران خرابی پیدا ہوئی۔

شنہوا نیوز کے مطابق راکٹ بیجنگ کے وقت کے مطابق رات 8 بج کر 2 منٹ پر روانہ ہوا، تاہم مشن کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایجنسی نے بتایا کہ ناکامی کی وجہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

اس ناکام لانچنگ سے متعلق ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسپیس ایکس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے لکھا ’’راکٹ بنانا انتہائی مشکل کام ہے۔‘‘ چین کی متعدد نجی اور سرکاری ملکیت والی کمپنیاں اسپیس ایکس کے ساتھ خلائی شعبے میں موجود فرق کو کم کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ مسک نے مزید کہا ’’مجھے امید ہے کہ وہ جلد بحال ہو جائیں گے۔‘‘

ڈرہم یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر اور سینٹر فار اسپیس انوائرنمنٹلزم کے رکن جوناتھن میک ڈوول نے کہا کہ لانچ کی ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ راکٹ نسبتاً کم بلندی اور رفتار پر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ تو سیٹلائٹ مدار میں پہنچا اور نہ ہی ملبہ مدار تک پہنچ سکا۔