ٹِک کے ذریعے پھیلنے والے نئے وائرس کی دریافت، سائنسدانوں کا انتباہ
شائع شدہ تاریخ 07 ستمبر, 2026
یہ تحقیق رواں ہفتے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہے جس کے مطابق نئے وائرس کو ایشین لانگ ہارنڈ ٹک نائیرو وائرس کا نام دیا گیا ہے، جو آرتھونائیرو وائرس گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔
مذکورہ تحقیق کے دوران وائرس سے متاثرہ بعض مریضوں میں خون کے پلیٹ لیٹس کی تعداد میں کمی اور جگر کے خلیوں کو نقصان یا سوزش کے شواہد بھی سامنے آئے۔
چینی محققین نے ٹک کے کاٹنے کے بعد پراسرار بیماریوں میں مبتلا 3 ہزار 163 مریضوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا، جن میں سے 10.4 فیصد میں نئے وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
ماہرین کے مطابق چین میں 2009 سے ایسے مریضوں کا مشاہدہ کیا جا رہا تھا جن میں شدید بخار اور پلیٹ لیٹس کی کمی جیسی غیر معمولی علامات پائی جاتی تھیں۔ ابتدائی طور پر ان میں سے کئی کیسز ڈابی بینڈا وائرس (ڈی بی وی) سے منسلک کیے گئے، تاہم مزید تفصیلی جینیاتی اور لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد اے ایل ٹی این وی کی موجودگی سامنے آئی، جو ڈی بی وی سے جینیاتی طور پر مختلف ہے۔
تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جن مریضوں میں اے ایل ٹی این وی اور ڈی بی وی دونوں وائرس موجود تھے، ان میں سانس لینے میں دشواری اور گردوں کی پیچیدگیوں کا امکان زیادہ تھا۔ ایسے مریضوں میں 7 افراد، یعنی 18.4 فیصد، دورانِ تحقیق ہلاک ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ایل ٹی این وی کی علامات ابتدا میں فلو سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، جن میں بخار، جسم میں درد، تھکن اور بعض اوقات سانس کی علامات شامل ہیں۔ تاہم صرف اے ایل ٹی این وی کے انفیکشن کو شدید خون بہنے یا اموات سے براہ راست منسلک نہیں کیا گیا، جبکہ ہلاکت خیز کیسز میں ڈی بی وی کا انفیکشن بھی موجود تھا۔
ماہرین کے مطابق نئے وائرس کے لیے فی الحال کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے مریضوں کو عموماً علامات کے مطابق طبی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وائرل انفیکشن میں بلا ضرورت اینٹی بایوٹکس کا استعمال مؤثر نہیں، کیونکہ اینٹی بایوٹکس بیکٹیریا کے خلاف کام کرتی ہیں، وائرس کے خلاف نہیں۔
تحقیق میں ٹک سے بچاؤ کے لیے لمبی پتلون پہننے، پتلون کو جرابوں میں ڈالنے، مناسب ٹک ریپیلنٹ استعمال کرنے اور بیرونی سرگرمیوں کے بعد جسم پر ٹک کی موجودگی چیک کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹک کو جلد سے جلد ہٹانا ضروری ہے کیونکہ جتنا زیادہ وقت ٹک جلد سے چمٹا رہے، انفیکشن منتقل ہونے کا امکان اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔