مجتبیٰ خامنہ ای نے دشمن کو دوٹوک پیغام دے دیا
شائع شدہ تاریخ 13 مارچ, 2026
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ میرا عہدہ مجھ سے کئی چیزوں کا تقاضا کر رہا ہے، عہدے کا تقاضا ہے موجودہ حالات کے ساتھ مستقبل کے بھی فیصلے کروں، ایرانی رہنماؤں اور عوام کے درمیان ہمیشہ رابطہ قائم رہے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم عظیم قوم ہیں، اللہ تعالیٰ قوم کی رہنمائی کرنے میں میری رہنمائی فرمائے، عوام کی خدمت کیلیے قرآن سے رہنمائی حاصل کروں گا۔
عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے
انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت کے بغیر میری کوئی اہمیت نہیں، اللہ کی حمایت سے عظیم رہنماؤں کی تقلید کرتا رہوں گا، عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے، عوام کا اتحاد ہمیشہ قائم رہے گا، مشکل وقت میں ایرانی عوام نے ہمیشہ بہتر فیصلے کیے وہ اپنے عزم سے دشمن کو شکست دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل ترین وقت میں ایرانی فورسز نے دشمن کو دندان شکن جواب دیا، انہوں نے اپنے حملوں کے ذریعے دشمن کو حاوی نہیں ہونے دیا، دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے
مجتبیٰ خامنہ ای نے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے، مشرق وسطیٰ سے امریکی اڈے بند کیے جائیں اور اگر یہ بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے۔
دشمن نے جو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی
’میرے والد، اہلیہ اور بہن نے شہادت کا رتبہ پایا اور شہدا کی فہرست میں شامل ہوئے۔ ہمارے شہدا آج بہتر جگہ پر ہیں۔ ہر ایرانی سمیت تمام شہدا کا بدلہ لیں گے۔ دشمن کو ایرانیوں کا خون بہانے کا حساب دینا پڑے گا۔ دشمن نے ہمارے اسکولوں پر حملہ کیا ان کو حساب دینا ہوگا۔ دشمن نے جو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘
امریکی اڈوں سے حملے جاری رہے تو جوابی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں
سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ 15 پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، دشمن نے کچھ ممالک میں اپنے اڈے قائم کیے جو ہمارے کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، امریکی اڈوں سے حملے جاری رہے تو جوابی حملوں کے سوا کوئی چارہ نہیں، دشمن جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔
والد کو 10 رمضان کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا
انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو 10 رمضان کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا گیا، تمام ایرانیوں سے مکمل اتحاد کی اپیل کرتا ہوں۔