لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایرانی صدر
شائع شدہ تاریخ 10 اپریل, 2026
ایرانی صدر نے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان پر جاری حملے نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ جاری جنگ بندی مذاکرات کو بھی بے معنی بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ یہ حملے دھوکا دہی کی علامت ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض فریقین ممکنہ معاہدوں کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
دوسری جانب ترک صدر طیب اردگان نے ایرانی صدر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے۔