عالمی معیشت ہلا دینے والی آبنائے ہرمز ایٹم بم سے بھی بڑا ایران کا اسٹریٹیجک ہتھیار
شائع شدہ تاریخ 22 اپریل, 2026
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران اصل بحران آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے پیدا ہوا جو دنیا کی 20 سے 25 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔
اس آبنائے کے ذریعے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی ممالک کا خام تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اس راستے میں رکاوٹ یا پابندی نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ کیا، برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالرز فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی جبکہ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے عالمی معیشت کو 330 ارب سے 2.2 کھرب ڈالر تک نقصان ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 2.9 فیصد کمی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر دباؤ ڈال کر اور محدود کارروائیوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے جس سے عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہوئی اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہوا۔
امریکا نے ایران پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے جبکہ یورپی ممالک اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ اس کی خودمختاری میں آتا ہے اور وہ اپنے قانونی حق سے دستبردار نہیں ہو گا۔
اسی صورتِ حال کے تناظر میں پاکستان میں فریقین کے درمیان مزید مذاکرات بھی جاری ہیں جبکہ عالمی برادری بھی جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہی ہے۔