شہباز شریف کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی پیشکش
شائع شدہ تاریخ 20 اگست, 2026
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے ملکی معاشی صورتحال، عوام کو ریلیف اور تجارتی و آئی ٹی اصلاحات سے متعلق اہم گفتگو کی۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزارتِ پیٹرولیم کی کاوشوں اور 1228 ارب روپے کا کٹ لگانے کی بدولت ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کی نمایاں کمی کی گئی ہے، جس میں صوبوں نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باوجود حکومت کی پوری کوشش رہی کہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ منتقل ہو تاہم پاکستان چونکہ توانائی کا نیٹ امپورٹر ہے، اس لیے خطے کے حالات کی وجہ سے سپلائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تا ہم دعاگو ہیں کہ خطے میں کشیدگی کم ہو۔
تجارتی اور معاشی اقدامات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور گزشتہ روز تاجروں کی مشاورت سے ریٹیلرز کے لیے ایپ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے ایف بی آر کو سخت ہدایت کی کہ تاجروں کو بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے، اور خبردار کیا کہ اگر کسی اہلکار نے بے جا ہراساں کیا تو وہ کڑی سزا کے لیے تیار رہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس ماہ آئی ٹی ایکسپورٹس میں 18 فیصد کا تدریجی اضافہ ہوا ہے، جبکہ گوگل کے وفد سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور حال ہی میں پاکستان میں گوگل کے نئے دفتر کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا ہے۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا فلور آف دی ہاؤس اور کابینہ میں بارہا کہا ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اس لیے ہم اپوزیشن کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر بیٹھ کر بات کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں تاکہ ملکی معیشت کی بہتری میں سب مل کر اپنا کردار ادا کر سکیں۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن پر منحصر ہے وہ کب تک مذاکرات کی میز پر آتے ہیں، جو بھی مسائل ہیں آئیں بیٹھ کر حل کریں۔۔ معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔