سعودی عرب میں کیش فری پروگرام متعارف کرا دیا گیا
شائع شدہ تاریخ 18 جولائی, 2019
پہلے مرحلوں میں پٹرول پمپس پر رقم کی ادائیگی ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی جدہ سعودی عرب میں تجارتی جعل سازی کو روکنے اور تمام لین دین کو ریکارڈ پر لانے کے لیے کیش فری پروگرام متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ابتدائی مرحلے میں تمام پٹرولز پمپس کو پابند کیا جائے گا کہ وہ نقدی کا لین دین ختم کر دیں اور اُس کی بجائے ڈیبٹ کارڈ سے رقم وصول کرنے کے لیے سعودی پیمنٹ نیٹ ورک کی سہولت حاصل کریں۔اس سلسلے میں وزارت بلدیات کی جانب سے تین ماہ قبل پیٹرول اسٹیشنز کے مالکان کو بتا دیا گیا تھا کہ 14 جولائی کے بعد ڈیڈ لائن ختم ہونے پر چیکنگ کا عمل شروع ہو جائے گا۔ جس پٹرول اسٹیشن پر گاہکوں سے نقدی کی وصولی کا پتا چلااُس کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے بعد دُوسرے مرحلے کا آغاز آئندہ ہفتے سے ہو گا جس میں گلی محلّوں کی سطح پر قائم کریانے کی دُکانوں، ہوٹلوں اور تجارتی سرگرمیوں والے مراکز کو کیش فری پروگرام کا پابند کیا جا ئے گا۔مذکورہ نوعیت کے تجارتی مراکز کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ بینکوں میں کرنٹ اکاوٴنٹ کھولیں اور صارفین سے رقم کی وصولی نقد کے بجائے مرحلہ وار بینک ڈیبیٹ کارڈ کے ذریعے کریں۔اس مرحلے کے لیے 23 اگست 2020ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ سعودی حکومت کی کیش فری پروگرام سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ کیونکہ اس کے باعث خصوصاً سعودی باشندوں کے نام پر کاروبار کرنے والے غیر مُلکیوں کی نشاندہی ہو سکے گی اور ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری اور شفافیت آئے گی۔ اسی وجہ سے 2020ء کو سعودی عرب کی معاشی تاریخ میں اہم ترین تبدیلیوں کا سال قرار دیا جا رہا ہے