اومان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وضاحت
شائع شدہ تاریخ 12 جولائی, 2019
اومانی دفتر خارجہ نے اومان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا مسقط گزشتہ کئی روز سے یہ خبریں سرگرم تھیں کہ اومان نے صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے ہیں۔ ان خبروں کو اس وقت تقویت مِلی جب اسرائیلی خفیہ ایجنسی ”موساد“ کے سربراہ یوسی کوہن نے حالیہ دِنوں یہ اعلان کیا کہ تل ابیب نے مسقط کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرلئے ہیں اور اسرائیلی دفتر خارجہ نے مسقط میں اپنا نمائندہ دفتر کھول لیا ہے۔اس خبر پر عالمِ اسلام میں بہت زیادہ ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اکثر سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ایک ایسی صیہونی ریاست جو فلسطینیوں کے حقوق غصب کیے بیٹھی ہیں اور اُنہیں خوشگوار زندگی جینے کا بنیادی حق دینے کو بھی تیار نہیں۔ اسرائیل آہستہ آہستہ توسیع پسندی کی پالیسی کے تحت فلسطینیوں کی زمینوں پریہودی بستیاں بسا کر اُنہیں ہتھیاتا جا رہا ہے۔ ایسی غاصب ریاست کے ساتھ ایک اسلامی سلطنت کا سفارتی تعلقات قائم کرنا دُنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔تاہم اس حوالے سے اومانی سلطنت کی جانب وضاحت سامنے آئی ہے۔ سلطنت اومان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے گئے۔ اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ یہ وضاحتی بیان اومانی دفتر خارجہ کی جانب سے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق سلطنت اومان اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مشن کی بحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے ۔ اس سلسلے میں فریقین سے بھرپور رابطے ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہو گئے ہیں۔