ابو ظہبی میں نئے الیکٹرانک ٹال سسٹم پر بھی جرمانوں کا نظام نافذ
شائع شدہ تاریخ 29 جولائی, 2019
نیا ٹال سسٹم 15 اکتوبر سے کام کرنا شروع کر دے گا ابو ظہبی ابو ظہبی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹال سسٹم کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت دارالحکومت ابو ظہبی میں داخل ہونے والے یا وہاں سے باہر جانے والے ڈرائیورز کو ٹول گیٹس سے گزرنا ہو گا جو کہ شہر میں مختلف مقامات پر نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ٹول سسٹم رواں سال 15 اکتوبر سے فعال ہو جائے گا۔اس حوالے سے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے کچھ خلاف ورزیوں پر عائد ہونے والے جرمانوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اگر کوئی غیر رجسٹرڈ شُدہ گاڑی دس دِنوں کی رعایتی مُدت کے بعد ٹول گیٹ کراس کرتے ہوئے پائی گئی تو اُس کے مالک پر پہلے دِن سو درہم، دُوسرے دِن دو سو درہم اور تیسرے دِن چار سو درہم کا جرمانہ عائد کیا جائے۔جبکہ اس خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ دس ہزار درہم کا ہو سکتا ہے۔ جبکہ ایسے ڈرائیورز جن کی گاڑی ابو ظہبی سے باہر کی ریاستوں میں رجسٹرڈ ہے، اور گریس پیریڈ کی مُدت ختم ہونے کے بعد بھی وہ اس کی رجسٹریشن نہیں کرواتے ، اگر ایسے ڈرائیورز کے اکاؤنٹ میں ناکافی بیلنس ہوا تو اُن پرٹول دروازوں سے گزرتے وقت ہر روز کے حساب سے پچاس درہم کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔اگر کوئی شخص اپنی گاڑی کی لائسنس پلیٹ کی فیس سے بچنے کی خاطر اس پلیٹ کے ساتھ کوئی جعلسازی کرتا پکڑا گیا تو اُس پر دس ہزار درہم کا جرمانہ عائد ہو گا۔ اگر کسی ڈرائیور کی جانب سے ٹال گیٹس پر نصب ای پیمنٹ مشین کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو ایسی صورت میں بھی جرمانے کی رقم دس ہزار درہم ہو گی۔تاہم ایمبولینسز، مسلح اداروں اور سول ڈیفنس کی گاڑیاں، عوامی بسیں، ابو ظہبی کی لائسنس شُدہ ٹیکسیاں، سکول بسیں، پولیس اور وزارت داخلہ کی گاڑیاں، ٹریلرز اور موٹر سائیکلز ٹول فیس کی ادائیگی سے مبرّا ہوں گی۔ اس کے علاوہ ایسی الیکٹرک گاڑیاں بھی دو سال تک ٹال فیس کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔