آرٹیمس 2 مشن، خلا باز چاند کے سفر پر روانہ
شائع شدہ تاریخ 03 اپریل, 2026
زمین کے مدار سے باہر نکلنے کے بعد اسپیس کرافٹ کا رخ چاند کی جانب کیا گیا اور ایسا نصف صدی سے زائد عرصے بعد ہوا ہے جب کوئی انسان زمین کے مدار سے باہر بالائی خلا میں سفر کر رہا ہے۔
اورین اسپیس کرافٹ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو 4 خلا بازوں کو چاند کے مدار پر لے جائے گا۔
اس 10 روزہ مشن کے دوران یہ خلا باز چاند کے مدار میں قیام کریں گے۔
چاند کے مدار پر پہنچنے میں ان خلا بازوں کو 3 دن کا عرصہ لگے گا اور ایسا 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا۔
ایک خلا باز جرمی ہینسن نے ویڈیو کال میں بتایا کہ ہم سب چاند کی جانب سفر کرتے ہوئے بہت خوش ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم انسان کیا کچھ کرسکتے ہیں۔
آرٹیمس 2 مشن کو یکم اپریل کو اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کے ذریعے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا تھا۔
اب یہ خلا باز چاند کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور چاند کی کشش ثقل کو غلیل کی طرح استعمال کرکے وہ اس کے مدار تک پہنچیں گے اور پھر وہاں سے زمین کی جانب واپس لوٹیں گے۔
ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جرمی ہینسن 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی بار چاند کے مدار پر پہنچنے والے خلاباز بنیں گے۔
لانچ کے بعد خلا بازوں کو عجیب مسئلے کا سامنا ہوا جب ٹوائلٹ خراب ہوگیا مگر اب اسے ٹھیک کرلیا گیا ہے۔
2028 میں آرٹیمس 3 مشن کو روانہ کیا جائے گا جس میں سوار خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
آرٹیمس 2 مشن اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ پہلی بار ایک سیاہ فام شخص چاند کے مدار پر بھیجا گیا ہے، جبکہ پہلی بار ایک خاتون اور ایک غیر امریکی فرد کو مشن کا حصہ بنایا گیا۔
اگر یہ مشن کامیاب رہا تو یہ خلا باز 250000 میل سے زیادہ کا خلائی سفر کا ریکارڈ بھی قائم کریں گے۔
واضح رہے کہ نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، مگر اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔
10 روزہ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد چاند کے گرد انسانوں کو پہنچانا اور پھر واپس لانا ہے۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔