آنے والے وقت کی جنگوں کی حقیقت، ماہرین نے خبردار کر دیا
شائع شدہ تاریخ 18 مارچ, 2026
27 فروری 2019 وہ دن تھا جب پاکستان ایئر فورس نے اپنی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ بھارتی طیارہ مار گرایا گیا اور پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری نے پاکستان کی فضائی برتری کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا۔
اس کے بعد 10 مئی 2025 کی رات بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جب جدید ٹیکنالوجی کے باوجود دشمن کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
مگر یہ سب کچھ شاید مستقبل کی جنگ کی صرف ایک جھلک ہے، ایک ایسی جنگ جہاں فیصلہ انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت اور سلیکون چِپس کریں گے۔
جنگ کا میدان اس کی شکل و صورت بلکہ روح تک ہمیشہ کے لیے بدل رہا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مستقبل کی جنگیں کیسی ہونگی؟ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہماری سوچ سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔
تصور کریں جہاں اسکرین پر ڈرونز کی یلغار کی ایک خوفناک اینی مشین جو ہزاروں چھوٹے، کیڑوں جیسے ڈرونز ایک ٹڈی دَل کی طرح شہروں، فوجی اڈوں اور بحری جہازوں پر حملہ آور ہیں۔
ان کے ڈیفنس سسٹم کو سیکنڈوں میں تباہ کر دیتے ہیں اور پھر ایک لیزر بیم ایک میزائل کو ہوا میں ہی کسی آواز کے بغیر جلا کر راکھ کر دیتی ہے، یہ کسی سائنس فکشن فلم کا سین نہیں بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو دنیا کی سپر پاورز آج اس لمحہ میں بند دروازوں کے پیچھے بنا رہی ہیں۔
پہلی جنگ عظیم میں جہاز صرف نگرانی کے لیے استعمال ہوتے تھے، سادہ سے طیارے دشمن کی نقل و حرکت دیکھنے تک محدود تھے لیکن جب پائلٹس نے ایک دوسرے پر فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا تو فضائی جنگ کا آغاز ہوا۔
اس دور میں جنگ مکمل طور پر پائلٹ کی ہمت، مہارت اور آنکھوں پر منحصر ہوتی تھی۔ اسی لیے ان پائلٹس کو “آسمان کے شہسوار” کہا جاتا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے آخری ایام میں جب ہٹلر کی فوج ہارنے ہی والی تھی، جرمنی نے ایک خفیہ ہتھیار میدان میں اتارا، ایک ایسا جہاز جس نے اتحادی افواج کی نیندیں حرام کر دیں۔ اس کا نام ایم ای 262 تھا ایک ایسا جہاز جس نے فضائی لڑائی کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ کیونکہ اس میں وہ پنکھوں والا پروپیلر انجن نہیں بلکہ جیٹ انجن تھا۔
جیٹ انجن کی ایجاد نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ جرمنی کا ایم ای 262 پہلا جیٹ فائٹر تھا جس نے رفتار کو جنگ کا اہم عنصر بنا دیا۔ اس کے بعد آنے والی تیکنیک میں اس کی رفتار آواز سے بھی آگے نکل گئی، اس میں میزائل اور ریڈار سسٹمز شامل کیے گئے، لیکن ویتنام جنگ نے یہ سبق سکھایا کہ صرف رفتار کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ حکمت عملی اور بہتر ہتھیار بھی ضروری ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد دو نئی سپر پاورز امریکا اور سوویت یونین کے درمیان نئے مقابلے کا آغاز ہوا کہ جیسے خلا میں پہلے کون جائے گا؟ زیادہ اور طاقتور ایٹم بم کس کے پاس ہوں گے؟اولمپکس میں کون زیادہ گولڈ میڈل جیتے گا؟ اور فائٹرز جیٹس کون زیادہ جدید اور اچھے بنائے گا؟ تو ان کے اسی جنون نے فائٹر جیٹس کی نئی جنریشن کو جنم دیا۔
چوتھی اور 4.5 جنریشن
چوتھی جنریشن میں فائٹر جیٹس صرف تیز نہیں بلکہ “اسمارٹ” ہوگئے۔ فلائی بائی وائر، جدید ریڈار، اور ہیڈز اپ ڈسپلے نے پائلٹ کو ایک طرح سے “سپر ہیومن” بنا دیا پھر 4.5 جنریشن آئی جس میں اے ای ایس اے ریڈار، لمبی رینج کے میزائل، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر شامل ہوئے، یہ وہ دور تھا جہاں جنگ کا اصول بن گیا کہ جو پہلے دیکھے گا، وہی پہلے مارے گا۔
ففتھ جنریشن، اسٹیلتھ طیاروں کا دور
اب جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں سب سے بڑی طاقت “نظر نہ آنا” ہے۔ ففتھ جنریشن کے اسٹیلتھ طیاروں کی خصوصیات میں ریڈار سے چھپنے کی صلاحیت، سپر کروز (بغیر آفٹر برنر تیز پرواز) سینسر فیوژن (360 ڈگری ویژن) مکمل نیٹ ورک کنیکٹیویٹی شامل ہے۔ یہ طیارے دشمن کو دیکھ سکتے ہیں، مگر خود نظر نہیں آتے یعنی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوسکتی ہے۔
سکستھ جنریشن، جب جنگیں مشینیں لڑیں گی
مستقبل کی جنگیں اور بھی خوفناک ہوسکتی ہیں جن میں بغیر پائلٹ یا ریموٹ کنٹرول لڑاکا طیارے، اے آئی کے ذریعے فیصلے، ڈرون سوارمز (ٹڈی دل کی طرح حملہ آور ہزاروں ڈرونز) لیزر ویپن اور ہائپرسونک میزائل، یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کیا ہم زندگی اور موت کا فیصلہ مشینوں کے حوالے کر سکتے ہیں؟
بہرحال اس نئی جنریشن نے جنگ کے اصول ہی بدل دیے ہیں، ایک فائٹر کئی پرانی جنریشن کے جہازوں کو تباہ کرسکتا ہے اور انہیں پتہ بھی نہيں چلے گا کہ یہ حملہ کہاں سے ہوا۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، انڈیا پاگلوں کی طرح امریکا سے ایف-35 حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
تو پاکستان کیا ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہے گا؟ بالکل نہیں، ہمارے پاس دو راستے ہیں، ایک ہمارا اپنا ‘پروجیکٹ عزم یعنی اپنا ففتھ جنریشن فائٹر بنانے کا منصوبہ۔
دوسرا دوست ملکوں جیسے چین سے جے-31 حاصل کرنا یا ترکی کے قاآن (کے اے اے این ) فائٹر پروگرام میں شامل ہونا، کیونکہ یہ یہ صرف ایک جہاز کا سوال نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے اور ابھی ہم یہ جنگ لڑنے کی کوشش ہی کر رہے ہیں اور دنیا کی سپر پاورز مزید آگے نکل گئی ہیں، ٹیکنالوجی کی دوڑ ہمیں ایک نئی، اس سے بھی زیادہ خوفناک جنریشن کی طرف لے جا رہی ہے۔
اصل جنگی میدان: معیشت
ان حالات میں ہمیں سکیورٹی کا بڑا چیلنج درپیش ہے اور افسوس کی بات ہے کہ اس وقت ہماری اکنامک کنڈیشن بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان حالات میں کھربوں ڈالر کے ایسے منصوبوں کا خواب دیکھ سکتے ہیں؟ جواب ہے شاید نہیں، کم از کم ابھی تو نہیں۔ تو پھر ہمارے پاس راستہ کیا ہے؟
ایک نئی اور اسمارٹ ڈیفنس اسٹریٹجی، جیسے مہنگے جہازوں کے بجائے، سستے مگر مؤثر لڑاکا ڈرونز اور ڈرون سوارمز پر توجہ دینا پھر اپنے ایئر ڈیفنس کو مضبوط بنانا۔
سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر کے ذریعے دشمن کے جہازوں سے نہیں، ان کے سسٹمز سے لڑنا، چین اور ترکی جیسے دوست ملکوں کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک پارٹنرشپ کرنا اور ٹیکنالوجی حاصل کرنا اور سب سے بڑھ کر ‘پروجیکٹ عزم’ جیسے لوکل پروجیکٹس پر بھروسہ کرنا لیکن ان تمام ہتھیاروں ان تمام جنریشنز سے بھی بڑھ کر آج پاکستان کے لیے جنگ کا میدان اصل کون سا ہے؟
وہ جنگی میدان نہ کہوٹہ میں ہے نہ کامرہ میں وہ میدان ہے بلکہ یہ میدان اسٹیٹ بینک میں اسٹاک ایکسچینج میں ہماری فیکٹریوں اور ہمارے کھیتوں میں ہے۔
تمام ٹیکنالوجی، ہتھیار اور جدید جہاز اپنی جگہ لیکن ہماری اصل طاقت ملکی مضبوط معیشت ہے۔ جنگ صرف میدانِ میں نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی اور تعلیم میں لڑی جاتی ہے جو ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا، وہی جدید جنگ جیت سکے گا۔ یہی ہے وہ ‘ایک نکتہ’ یہی ہے وہ ‘بنیادی اصول’ جس ملک کی معیشت مضبوط ہوگی، وہی جدید ترین ہتھیار خرید سکے گا یا بنا سکے گا۔
اگر ہماری معیشت آئی ایم ایف کے قرضوں پر چلتی رہے گی اگر ہم کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہیں گے تو ہم جتنے مرضی جدید میزائل یا طیارے خرید لیں، ہم اکیسویں صدی کی جنگ جیت نہیں سکتے۔
جدید جنگ صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ معاشی اور علمی طاقت سے لڑی اور جیتی جاتی ہے
اس لیے پاکستان کے لیے اصل دفاعی منصوبہ ایک مضبوط معیشت ہے۔ !
یاد رکھیں ! فضائی جنگ کا سفر لکڑی کے جہازوں سے شروع ہوکر آج مصنوعی ذہانت تک پہنچ چکا ہے۔
مگر ایک حقیقت آج بھی نہیں بدلی، جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، عقل، حکمت اور معیشت سے ہی جیتی جاتی ہیں۔