ایپل کیلئے بڑا حکم، ڈیٹا قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ

شائع شدہ تاریخ 18 اگست, 2026
ایپل-کیلئے-بڑا-حکم،-ڈیٹا-قوانین-میں-تبدیلی-کا-فیصلہ

جرمنی کے وفاقی کارٹل آفس کی جانب سے ایپل کے خلاف کئی سال سے جاری تحقیقات کو نئے اقدامات کی منظوری کے بعد ختم کردیا گیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقدامات کے تحت ایپل کمپنی آئی فون اور آئی پیڈ پر ایپس کی جانب سے صارفین کا ذاتی ڈیٹا اشتہارات کے لیے استعمال کرنے سے متعلق قوانین تبدیل کرے گی۔

جرمن ادارے کے مطابق ایپل کا ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی (اے ٹی ٹی) نظام اپنی ایپس کو تھرڈ پارٹی ایپس کے مقابلے میں صارفین سے ڈیٹا استعمال کرنے کی اجازت لینے کے لیے زیادہ سازگار طریقہ فراہم کرتا تھا، حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ طرزِ عمل مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔

تھرڈ پارٹی ایپس کے لیے نئے اصول

نئے ضوابط کے تحت تھرڈ پارٹی ایپس میں دکھائے جانے والے رضامندی کے پاپ اَپ میں ایسی زبان اور علامات ختم کرنا ہوں گی جو صارف کو رضامندی دینے سے روکنے یا حوصلہ شکنی کا تاثر دیں، رضامندی کی درخواست کا انداز اور زبان زیادہ غیر جانب دار رکھنا لازم ہوگا۔

اس کے علاوہ تھرڈ پارٹی ایپ ڈویلپرز کو ایپل کی لازمی ڈیٹا رضامندی کی درخواست کے ساتھ اپنی الگ پرائیویسی رضامندی کی درخواست شامل کرنے میں بھی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔

جرمن حکام کے مطابق ایپل کو فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیے جانے کے بعد تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے، ان اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی ایک مقرر کردہ ٹرسٹی کرے گا جبکہ نئے ضوابط سات سال تک نافذ رہیں گے۔

ایپل کا مؤقف

ایپل نے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں یورپی یونین کے تقریباً تمام ممالک میں لاگو ہوں گی۔ کمپنی کے مطابق جرمن حکام کی درخواست پر رضامندی کے پاپ اَپ کے متن اور ڈیزائن میں پہلے ہی تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔

تھرڈ پارٹی ایپ ڈویلپرز، جن میں فیس بک کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز بھی شامل ہے، صارفین کے درست ڈیٹا تک رسائی کو اشتہارات کے لیے اہم سمجھتے ہیں کیونکہ ایسے اشتہارات عمومی نوعیت کی اشتہاری مہمات کے مقابلے میں زیادہ آمدنی دے سکتے ہیں۔

ایپل پر یورپ میں دباؤ بڑھ گیا

ایپل کے ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی (اے ٹی ٹی) نظام پر یورپ میں پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، فرانس اور اٹلی کے حکام اس فریم ورک پر بالترتیب 15 کروڑ یورو اور 9 کروڑ 86 لاکھ یورو جرمانے عائد کرچکے ہیں۔

جرمنی کا تازہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپ میں بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کے استعمال اور اشتہاری نظام پر مسابقتی حکام کی نگرانی مزید سخت ہورہی ہے۔