عالمی ادارۂ صحت: ٹی بی پھر دنیا کی سب سے مہلک متعدی بیماری بن گئی

شائع شدہ تاریخ 24 جولائی, 2026
عالمی-ادارۂ-صحت-ٹی-بی-پھر-دنیا-کی-سب-سے-مہلک-متعدی-بیماری-بن-گئی

دنیا بھر میں مختلف بیمار یاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، گلوبل کلائمٹ چینج سے جہاں دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے وہاں مختلف بیماریوں کے جراثیم بھی مضبوط ہوتے جارہے ہیں۔

 دنیا کو ان بیماریوں سے نمٹنے کے چیلنجز کے ساتھ ساتھ دیگر پرانی بیماریوں کو ختم کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے جس میں ٹی بی سرفہرست ہے۔

 اس حوالے سے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں APAC-IRIDS کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ممتاز ماہر ڈاکٹروں نے خطاب کیا۔

پاکستان سے ڈاکٹر کنیز فاطمہ، بھارت سے ڈاکٹر سبرامانین سوامی ناتھ، انڈونیشیا کی ڈاکٹر ارلینا برہان، فلپائن کی ڈاکٹر روگایا ڈبلیوکالاپس اور روش کے ڈائریکٹر سیرجیوکارمونا سرفہرست ہیں جنہوں نے ٹی بی کو دنیا بھر میں کنٹرول کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ اب وقت ٹی بی جیسی بیماری کو کنٹرول کرنے کا نہیں بلکہ اسے ختم کرنے کا ہے، ٹی بی کو ختم کرنے کی بجائے اس کو دنیا بھر سے ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ٹی بی ایک ایسی بیماری ہے جو ایک آدمی سے دوسرے آدمی کو بآسانی منتقل ہو جاتی ہے، اس کے جراثیم اتنے خطرناک اورخاموشی سے منتقل ہو جاتے ہیں کہ مریض کو کافی عرصے تک پتہ ہی نہیں چلتاہے کہ وہ ٹی بی جیسے مہلک مرض کا شکار ہو چکا ہے۔