ہیٹ ویو سے بچنے کیلئے ماہرین کی 10 ضروری ہدایات

شائع شدہ تاریخ 22 جولائی, 2026
ہیٹ-ویو-سے-بچنے-کیلئے-ماہرین-کی-10-ضروری-ہدایات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو ہیٹ اسٹروک سمیت کئی خطرناک طبی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں، تاہم چند آسان اقدامات اپنا کر گرمی کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے مطابق جسم کا قدرتی نظام پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے، لیکن جب درجہ حرارت بہت زیادہ ہو یا ہوا میں نمی بڑھ جائے تو یہ نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پاتا۔ ایسی صورت میں ہیٹ کریمپس، ہیٹ ایڈیما اور ہیٹ اسٹروک جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گرمی میں سب سے اہم احتیاط جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا ہے۔ فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ڈاکٹر وینڈل پورٹر کا کہنا ہے کہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پانی پینا ضروری ہے، کیونکہ پانی کی کمی کے باعث جسم پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا نہیں رکھ پاتا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ٹھنڈے پانی سے نہانا یا شاور لینا جسمانی درجہ حرارت کم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے، جبکہ گردن اور کلائیوں پر ٹھنڈی پٹیاں یا برف کی تھیلی رکھنے سے بھی فوری ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ان حصوں میں خون کی شریانیں جلد کے قریب ہوتی ہیں۔

ماہرین نے گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھی متعدد تجاویز دی ہیں۔ ان کے مطابق صبح کے وقت قدرتی ہوا کے لیے کھڑکیاں کھولنا اور سورج چڑھنے کے بعد انہیں بند کرکے پردے یا بلائنڈز گرا دینا گھر کا درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ پنکھوں کو اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ وہ گرم ہوا کو باہر نکال سکیں، جبکہ کچن اور باتھ روم کے ایگزاسٹ فین بھی اضافی گرمی اور بھاپ کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ میں ہدایت کی گئی ہے کہ رات کے وقت کاٹن کی چادریں اور ہلکے لباس استعمال کیے جائیں، کیونکہ یہ ہوا کی بہتر آمدورفت ممکن بناتے ہیں۔ اگر گھر میں بیسمنٹ موجود ہو تو شدید گرمی کے دوران وہاں سونا نسبتاً زیادہ آرام دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح غیر استعمال شدہ کمروں کے دروازے بند رکھنے سے ٹھنڈی ہوا صرف زیر استعمال حصوں تک محدود رہتی ہے۔

ماہرین نے روایتی بلبوں کے بجائے ایل ای ڈی بلب استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیا، کیونکہ یہ کم حرارت پیدا کرتے ہیں اور بجلی کی بچت بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئس کریم یا دیگر ٹھنڈی اشیا وقتی طور پر سکون تو دیتی ہیں، تاہم زیادہ چینی والی غذاؤں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ جسم میں حرارت بڑھا سکتی ہیں۔

ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ گرمی کی شدت کے دوران بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی کا استعمال بڑھائیں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تاکہ گرمی سے پیدا ہونے والے طبی خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔