گردوں کی خرابی کی 7 اہم علامات، انہیں نظرانداز نہ کریں

شائع شدہ تاریخ 18 اگست, 2026
گردوں-کی-خرابی-کی-7-اہم-علامات،-انہیں-نظرانداز-نہ-کریں

ماہرین کے مطابق پیشاب میں غیر معمولی تبدیلی، جسم پر سوجن، مسلسل تھکن یا کمر کے نچلے حصے میں درد جیسی علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ بروقت تشخیص سے بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پیشاب میں غیر معمولی تبدیلی

پیشاب کا معمول سے زیادہ یا کم آنا، بار بار پیشاب کی حاجت، پیشاب میں خون آنا، رنگ یا بو میں نمایاں تبدیلی اور پیشاب کے دوران تکلیف مختلف طبی مسائل کی علامات ہوسکتی ہیں۔ ایسی علامات مسلسل رہیں تو طبی معائنہ ضروری ہے۔

مسلسل کمزوری اور تھکن

بلاوجہ کمزوری، تھکن، متلی، قے، بھوک میں کمی، پیاس میں غیر معمولی اضافہ یا وزن کم ہونا صحت کے کسی اندرونی مسئلے کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ ان علامات کو مسلسل برقرار رہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

کمر یا پہلو میں درد

کمر کے نچلے حصے یا جسم کے ایک جانب درد گردوں سے متعلق بعض مسائل، خصوصاً پتھری یا انفیکشن، میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ شدید یا مسلسل درد کی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے طبی معائنہ کرانا بہتر ہے۔

ہاتھ پاؤں اور چہرے پر سوجن

جب گردے جسم سے اضافی پانی اور نمکیات مناسب طریقے سے خارج نہ کرپائیں تو جسم میں پانی جمع ہونے سے ہاتھوں، پیروں، ٹخنوں یا چہرے پر سوجن ہوسکتی ہے۔ اچانک یا بڑھتی ہوئی سوجن کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

جلد پر خشکی اور خارش

گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے پر خون میں بعض فاضل مادوں کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جلد میں خشکی اور خارش جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم جلد کی ہر شکایت گردوں کی بیماری کی علامت نہیں ہوتی۔

خون کی کمی اور سانس پھولنا

گردوں کی دائمی بیماری میں خون کے سرخ خلیوں کی کمی یعنی خون کی کمی ہوسکتی ہے، جس کے باعث تھکن، کمزوری، چکر یا سانس پھولنے جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

ذائقے میں تبدیلی اور منہ کی بدبو

کچھ افراد میں گردوں کی شدید خرابی کے دوران منہ کا ذائقہ بدلنے، بھوک کم ہونے یا منہ میں ناخوشگوار ذائقے اور بو کی شکایت ہوسکتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ وزن بھی تیزی سے کم ہو رہا ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔

بہتری کے لیے کیا کریں؟

گردوں کی صحت کے لیے مناسب مقدار میں پانی پینا، تمباکو نوشی سے گریز، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور نمک کے زیادہ استعمال سے پرہیز اہم ہے۔ شوگر اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا بھی گردوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کرینبیری جوس یا کسی خاص غذا کو گردوں کی بیماری کا علاج سمجھنا درست نہیں۔ اگر گردوں سے متعلق علامات موجود ہوں تو اصل وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے معائنہ اور ضروری ٹیسٹ کرانا چاہیے۔

یاد رکھیں : گردوں کی بیماری کی تشخیص صرف علامات سے نہیں کی جاسکتی۔ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ، بلڈ پریشر اور ضرورت پڑنے پر الٹرا ساؤنڈ یا دیگر طبی معائنے کے ذریعے اصل صورتحال معلوم کی جاتی ہے۔