کیا مسلسل اے سی میں بیٹھنا صحت کیلئے نقصان دہ ہے؟
شائع شدہ تاریخ 21 جولائی, 2026
ماہرین کے مطابق انسانی جسم اپنے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کے لیے مسلسل کام کرتا ہے۔ شدید گرمی میں جسم پسینہ خارج کرکے اور خون کی شریانوں کو پھیلا کر خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے، تاہم اگر کوئی شخص دھوپ سے آتے ہی اچانک انتہائی ٹھنڈے ماحول میں چلا جائے تو جسم کو درجہ حرارت میں یکدم تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں "تھرمل شاک” کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اچانک تبدیلی کے نتیجے میں سر درد، گلے کی خراش، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، جسمانی تھکن، چکر اور بے چینی جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ پہلے سے سانس یا الرجی کے مسائل میں مبتلا افراد میں یہ اثرات نسبتاً زیادہ شدید ہوسکتے ہیں۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ شدید گرمی سے گھر واپس آنے کے بعد فوراً اے سی کے سامنے بیٹھنے کے بجائے چند منٹ کسی سایہ دار یا نارمل درجہ حرارت والے مقام پر گزاریں تاکہ جسم بتدریج ماحول سے ہم آہنگ ہو سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرمی کے موسم میں جسم میں پانی کی کمی عام ہوجاتی ہے، اس لیے اچانک ٹھنڈے ماحول میں جانے سے پہلے مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے تاکہ جسم پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
ماہرین کے مطابق اے سی کی خشک ہوا گلے اور ناک کی جھلیوں کو خشک کر سکتی ہے، جس کے باعث گلے میں جلن، خشکی اور کھانسی کی شکایت پیدا ہوسکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب اے سی کا درجہ حرارت بہت کم رکھا جائے یا ٹھنڈی ہوا براہِ راست جسم پر پڑ رہی ہو۔
صحت کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ گرمیوں میں اے سی کا استعمال ضرور کریں، لیکن درجہ حرارت معتدل رکھیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور شدید گرمی سے آنے کے فوراً بعد ٹھنڈے ماحول میں جانے سے گریز کریں۔ ان کے مطابق معمولی احتیاط کئی موسمی بیماریوں اور جسمانی پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔