کوروناوائرس فضامیں موجود رہ سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت
شائع شدہ تاریخ 08 جولائی, 2020
عالمی ادارہ صحت نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ کورونا وائرس فضا میں موجود رہ سکتا ہے۔ بتیس ممالک کے دو سو انتالیس سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کو لکھا تھا کہ ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس فضاء میں معلق رہ کر انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ قبل ازیں مارچ2020 میں عالمی ادارہ صحت نے بیان جاری کیا تھا کہ کورونا وائرس فضا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ فضا میں وائرس کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ کورونا وائرس براہ راست لوگوں سے منتقل ہوتا ہے اور یہ وائرس متاثرہ شخص کے علاوہ کچھ اشیا سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے عالمی ادارہ صحت کو کورونا سے متعلق اپنی سفارشات تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے ان شواہد کو تسلیم کیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے جراثیم کئی گھنٹوں تک فضا میں زندہ رہتے ہیں اور یہ جراثیم اس ماحول میں موجود افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس دنیا بھر سے 5 لاکھ 40 ہزار انسانوں کی جان لے گیا اس وائرس کے جراثیم کے فضا میں موجود ہونے اور لوگوں کو متاثر کرنے کا خطرہ رش والی بند جگہوں میں زیادہ ہوتا ہے جہاں ہوا کا گزر کم سے کم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بند جگہوں جیسے ریستوران، چرچ اور گوشت کے پلانٹس میں وائرس کے پھیلاؤ کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ وائرس کے فضا میں موجود ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے جراثیم ایک سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں۔ شواہد کے مطابق کورونا کے جراثیم ایک کمرے کی لمبائی کے برابر سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ممکنہ طور پر تین گھنٹوں تک فضا میں مؤثر رہتے ہیں۔