کراچی میں فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں برآمد، متاثرہ خاندان پر ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرض۔
شائع شدہ تاریخ 10 دسمبر, 2025
پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ گھر کے سربراہ محمد اقبال کی جانب سے اطلاع دی گئی تھی اور ابتدائی طور پر یہ چیز سامنے آئی کہ گھر میں گیس بھرنے کی وجہ سے خواتین کی موت واقع ہوئی لیکن جب پوسٹ مارٹم کیا گیا تو پتہ چلا کہ ایک لاش پولیس کو اطلاع ملنے والے روز سے بھی دو روز پرانی تھی۔
حکام کے مطابق گھر سے یاسین نامی شخص بھی نیم بے ہوشی کی حالت میں ملا تھا جسے اسپتال منتقل کیا گیا، جب گھر کے سربراہ کے بیٹے یاسین سے پوچھ گچھ کی گئی تو وہ بھی بیان دینے کے حوالے سے تذبذب کا شکار نظر آیا، پھر پولیس کی جانب سے معاملہ مشکوک قرار دیکر گھر کے سربراہ اقبال اور ان کے بیٹے یاسین کو حراست میں لے لیا گیا۔
اس حوالے سے پولیس سرجن نے بھی جیو نیوز کو بتایا کہ یہ کافی پیچیدہ نوعیت کا کیس ہے اور خواتین کے ساتھ نیم بے ہوشی میں ملنے والے نوجوان کے خون میں بھی کچھ ایسی مشکوک چیزیں پائی گئیں جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔
اس کے علاوہ پولیس حکام کا کہنا ہے دوران تفتیش یہ چیز بھی سامنے آئی کہ گھر کا سربراہ محمد اقبال مبینہ طور پر جادو ٹونے کا کام بھی کرتا ہے، پولیس کی جانب سے معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ فیملی نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کا قرض لیا ہوا ہے، گھر اور ایک گاڑی بھی کرائے پر لی ہوئی ہے۔ یاسین پراپرٹی کا کام کرتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ والد کے پاس سے ایک خط ملا جس کی جانچ کی جا رہی ہے، والد اور بیٹے کو حراست میں لیا ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق خواتین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعدموت کی وجہ سامنے آس کے گی تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملنے والی 3 لاشوں میں سے ایک خاتون کی لاش 2 روز پرانی تھی۔
یاد رہے کہ 3 روز قبل کراچی کے علاقے گلش اقبال کے مطابق فلیٹ سے ماں، بیٹی اوربہو کی لاشیں ملی تھیں۔ گھر کے سربراہ محمد اقبال نے خود ون فائیو پر فون کر کے اطلاع دی اور ابتدائی تفتیش میں معاملہ مشکوک پایا گیا۔