ملک سے بھاگا نہیں علاج کی غرض سے لندن آیا ہوں، جہانگیر ترین کا موقف سامنے آ گیا
شائع شدہ تاریخ 19 جون, 2020
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد چینی بحران میں ملوث جہانگیر ترین کو ملک سے فرار قرار دیا جا رہا ہے اور ان کے ملک سے فرار ہونے کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا جا رہا ہے، اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتےہوئے جہانگیرترین کا اپنے موقف میں کہنا تھا کہ میں ملک سے بھاگا ہوا نہیں ہوں بلکہ علاج کی غرض سے لندن میں آیا ہوں۔ جہانگیر ترین کا مذکورہ موقف نجی ٹی وی پر چلنے والے پروگرام پاکستان ٹونائٹ کے میزبان کا بیان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے جہانگیر ترین کو ملک سے فرار دیا جا رہا تھا جس پر میں نے جہانگیر ترین کا موقف لینے کے لئے ان سے رابطہ کیا تو جہانگیر ترین کا مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے مجھ پر الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے میاں محمد نواز شریف کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جہانگیر ترین کا اپنے موقف میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن سے نہ میں نے کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی رابطہ کرنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتا ہوں، ن لیگ کا میڈیا سیل میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے، نواز شریف کے خلاف پاناما کے ثبوت میں لے کر آیا، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں انہیں نواز شریف کے ساتھ رابطہ کرو جن کے خلاف میں پانامہ کے ثبوت لے کر آیا تھا، ایسا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔ پاکستان ٹونائٹ کے میزبان کو اپنا مؤقف دیتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ہے جس پر نہ کبھی سمجھوتا کیا ہے اور نہ ہی کبھی کروں گا، لوگوں کی جانب سے جو مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے کہ احتساب کے ڈر سے میں بھاگ کر لندن بیٹھا ہوں اس میں کوئی صداقت نہیں ہے، میں علاج کی غرض سے لندن آیا ہوں نہ کے بھاگ کر، جیسے ہی صحت بہتر ہو جائے گی میں واپس وطن پلٹ آؤں گا۔