سگریٹ اور ویپنگ میں کون زیادہ نقصان دہ؟ ماہرین نے بتا دیا
شائع شدہ تاریخ 24 جولائی, 2026
ویپنگ کو محفوظ سمجھنے والے اپنی غلط فہمی دور کرلیں، نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ویپ استعمال کرنے والوں کو بھی سگریٹ نوش افراد جیسا نقصان پہچتا ہے۔
سگریٹ نوشی کو دنیا بھر میں صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم حالیہ سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹس) بھی اتنی بے ضرر نہیں جتنی عام طور پر سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ سگریٹ چھوڑ کر ویپنگ اختیار کرنا مکمل طور پر محفوظ متبادل ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہوسکتا ہے۔
عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ چونکہ ویپ میں روایتی تمباکو استعمال نہیں ہوتا، اس لیے یہ صحت کے لیے کم نقصان دہ ہے لیکن یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کی 2026 کی تحقیق اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے سائنس دانوں کی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کردیا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق ویپنگ کے باعث منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں کا ڈی این اے متاثر ہوتا ہے اور اس میں نمایاں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈی این اے انسانی جسم کا بنیادی جینیاتی کوڈ ہوتا ہے، جو خلیوں کی نشوونما اور جسم کے مختلف افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر اس میں خرابی پیدا ہو جائے تو کینسر سمیت متعدد سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ویپ میں استعمال ہونے والے میٹھے اور فروٹ فلیورز بھی ڈی این اے کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ پوڈ سسٹم استعمال کرنے والے افراد میں اس نوعیت کے نقصانات نسبتاً زیادہ دیکھے گئے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ویپنگ سے منہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ واضح طور پر بڑھ سکتا ہے، اس لیے اسے محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو پہنچنے والا نقصان تقریباً اتنا ہی تھا جتنا روایتی سگریٹ نوش افراد میں دیکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ویپنگ اور سگریٹ نوشی کے طریقہ کار مختلف ہیں، لیکن دونوں صورتوں میں صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ ویپنگ کو نقصان سے بچنے کا آسان راستہ نہ سمجھا جائے، ہر بار ویپ کا استعمال جسم کے اہم خلیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس لیے بہتر یہی ہے کہ نہ صرف خود اس عادت سے دور رہا جائے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔