سندھ حکومت کے راشن نہ دینے پر حیدرآباد میں احتجاج
شائع شدہ تاریخ 28 مارچ, 2020
لاک ڈائون کے باعث کھانے پینے کی اشیا سے محروم خواتین کا شہباز بلڈنگ کے سامنے مظاہرہسکھر میں یوسی قریشی گوٹھ کے چیئرمین پر سرکاری راشن کے تین ٹرک گھر میں رکھنے کا الزام حیدرآباد،سکھرحکومت سندھ کی جانب سے کورونا سے بچائو کے اقدامات کے سلسلے میں 5ر وز سے جاری لاک ڈائون کے باعث کھانے پینے کی اشیاء سے محروم غریب خواتین لاک ڈائون کے احکامات کو پس پشت ڈال کر شہباز بلڈنگ کے سامنے احتجاج کیلئے پہنچ گئیں۔ اس موقع پرمذکورہ احتجاجی خواتین نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے وہ روزگار اور کوئی آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی تک کیلئے ترس رہی ہیں۔ سندھ حکومت نے غریبوں کو تاحال کوئی راشن فراہم کیا نہ کوئی مدد کی جس کی وجہ سے وہ فاقہ کشی کا شکار ہونے اور عوامی نمائندوں کی جانب سے بے یارو مددگار چھوڑنے کے سبب لاک ڈائون میں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر بلدیات سندھ سمیت دیگر ارباب اختیار غریب عوام کو راشن کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے انہیں بھوک سے نجات دلائیں۔ سکھر کی یوسی قریشی گوٹھ میں راشن نہ ملنے کیخلاف یوسی چیئرمین آفس کے باہر احتجاج کیاگیا۔ اس موقعے پر نعیم بلوچ ،صدام حسین اور دیگر نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ گورنمنٹ کی جانب سے کوروناوائرس سے بچنے کیلئے صوبے بھر میں لاک ڈائون کرنے کے اعلان کے باعث سندھ میں غریبوں اور مستحقین میں راشن بانٹنے کابھی اعلان کیا گیاتھا جس کے بعد میئرسکھر ارسلان اسلام شیخ نے راشن سے بھرے تین ٹرک یوسی قریشی گوٹھ کے عوام کیلئے بھیجے تھے تاہم یوسی چیئرمین ذوالفقار قریشی نے مبینہ طور پر راشن سے بھری تینوں گاڑیاں اپنے گھر میں رکھیں اور راشن غریبوں میں تقسیم نہیں کیاجارہاہے جبکہ غریب مزدوروں کو راشن مانگنے پر مقدمے درج کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ مظاہرین نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔