سرفرازبگٹی کےناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

شائع شدہ تاریخ 10 جولائی, 2020
سرفرازبگٹی-کےناقابلِ-ضمانت-وارنٹ-گرفتاری-جاری

بچی کے اغواء میں معاونت کے کیس ميں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج کوئٹہ نےسرفراز بگٹی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئےگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جمعہ کومقدمے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آغا منیر کی عدالت میں ہوئی۔ سینیٹرسرفرازبگٹی کيخلاف بچی کےاغواء میں معاونت کے کیس میں ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کردیے گئے۔ وارنٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ نے جاری کئے۔ عدالت نے پولیس کوسرفرازبگٹی کوگرفتار کرکے پیش کرکے24 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سرفرازبگٹی پر 9 سالہ بچی ماریہ کےاغواء میں معاونت کا الزام ہے،بچی ماریہ کی نانی نےمقدمے میں بچی کے والد توکلی بگٹی کے ساتھ سرفراز بگٹی کوبھی اغوا کے مقدمےمیں نامزد کیا ہے۔کوئٹہ بجلی روڈ پولیس اسٹیشن میں دائر ایف آئی آر کے مطابق نانی اپنی نواسی ماریہ کوعدالتی حکم پراس کے باپ توکلی بگٹی  سے ملوانے عدالت لے گئی تھی۔عدالت میں پیشی کے موقع پر بچی کا والد لڑکی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر گھر لے گیا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق بچی کی والدہ سحرش نامی خاتون کے مبینہ  قتل کے بعد عدالت نے اس کی بیٹی کو نانی کے حوالے کیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: سابق صدر آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری سپریم کورٹ نے9 سالہ بچی کے اغواء کیس میں سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی استدعا مسترد کردی تھی۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔ سرفراز بگٹی کے وکیل کامران مرتضی نےآئندہ سماعت تک عبوری ضمانت دینے کی استدعا کی تھی اورموقف اپنایا کہ عبوری ضمانت نہ ملی تو مشکل ہوجائے گی۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے تھے کہ ضمامت بنتی ہوگی تودیں گے،سرفراز بگٹی کو 6 ماہ سے کسی نے گرفتار نہیں کیا، اب سرفراز بگٹی کو کون گرفتار کرےگا۔ جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیئے تھے کہ سرفراز بگٹی با اثر شخص ہیں،کوشش کریں کہ بچی مل جائے۔ عدالت نے سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی استدعا مسترد کرتے ہوئےسماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی تھی۔