رہبر کی شہادت کے بعد قاتلوں سے مذاکرات آسان نہیں، ایرانی صدر
شائع شدہ تاریخ 15 ستمبر, 2026
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بھارتی ٹی وی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات چیت کی جاسکتی ہے، ایران کا مطالبہ ہے امریکا پابندیاں ختم کرے اور یکطرفہ پالیسی چھوڑے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا دباؤ کے ذریعے مذاکرات نہ کرے، جوہری مذاکرات عالمی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ہونے چاہئیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا جھوٹ بول رہا ہے، صرف پروپیگنڈا کر رہا ہے، ایران این پی ٹی کا رکن ہے، جوہری پروگرام پر سب سے زیادہ نگرانی رہی۔
ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں کام کر رہا تھا اور آج بھی کر رہا ہے، جوہری ہتھیار بنانا چاہتے تو این پی ٹی کے رکن نہ بنتے، امریکہ ایران پر حملے کو جائز ثابت کرنے کیلئے بہانے تراش رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش نہیں کی، آخر کون سا ثبوت ملا کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے؟ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ چکا ہے، معاہدے پر دستخط کے بعد اسے پھاڑ دیا گیا، اب دوبارہ مذاکرات کیسے کریں؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں کیسے معلوم ہو اس بار کیے گئے وعدوں اور معاہدوں پر قائم رہیں گے؟ ایران جنگ نہیں چاہتا، کبھی جارحیت کا راستہ اختیار نہیں کیا، اسرائیل خود این پی ٹی کا رکن نہیں، پھر اس کے جوہری ہتھیاروں پر اعتراض کیوں نہیں؟
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں بے گناہ انسانوں کو قتل کر رہا ہے، دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اسرائیل کے ظالمانہ رویے اور امریکی اقدامات کے مخالف ہیں۔